بلیک باؤڈ ہیک: برطانیہ، امریکا اور کینیڈا کی کئی جامعات کا ڈیٹا چوری

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2020

ای میل

<ul>
<li>فائل فوٹو:کریئٹو کامنز</li>
</ul>
  • فائل فوٹو:کریئٹو کامنز

کلاؤڈ کمپیوٹنگ فراہم کرنے والوں پر ہیکرز کے حملے سے برطانیہ، امریکا اور کینیڈا کی کم از کم 10 یونیورسٹیوں کے موجودہ یا سابق طلبہ کا ڈیٹا چوری ہوگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ اور بچوں کی ذہنی صحت کی فلاحی تنظیم ، ینگ مائنڈز نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ متاثر ہوئے تھے۔

اس ہیک نے بلیک باؤڈ کو نشانہ بنایا جو دنیا کی سب سے بڑی تعلیمی ایڈمنسٹریشن فراہم کرنے والی، فنڈ ریزنگ اور مالیاتی انتظام کا سافٹ ویئر فراہم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں مقیم اس کمپنی کا سسٹم مئی میں ہیک کیا گیا تھا۔

کمپنی پر اب تک عوام کے سامنے اس کا انکشاف نہ کرنے اور ہیکرز کو نامعلوم تاوان ادا کرنے پر سخت تنقید بھی کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوئٹر کا سسٹم ہیک، دنیا کی بااثر شخصیات کے اکاؤنٹ سے بٹ کوائن بٹورنے کے لیے ٹوئٹ

رپورٹ کے مطابق چند کیسز میں ڈیٹا صرف سابقہ طلبہ تک ہی محدود تھا جن سے کہا گیا تھا کہ وہ جن اداروں سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں ان کی مالی مدد کریں لیکن دیگر میں ہیکرز نے عملے، موجودہ طلبہ اور دیگر مددگاروں کے ڈیٹا کو نشانہ بنایا۔

اب تک بی بی سی کی جانب تصدیق کیے گئے متاثرہ یونیورسٹیوں کے نام یہ ہیں:

  • نیویارک یونیورسٹی

  • آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی

  • لاؤبورو یونیورسٹی

    • لیڈز یونیورسٹی
  • لندن یونیورسٹی

  • یونیورسٹی آف ریڈنگ

  • یونیورسٹی کالج، آکسفورڈ

  • امبروز یونیورسٹی، البرٹا، کینیڈا

  • ہیومن رائٹس واچ

  • ینگ مائنڈز

  • روڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن، امریکا

  • ایکزیٹر یونیورسٹی

علاوہ ازیں تمام ادارے انہیں معافی نامہ بھیج رہے ہیں جن کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔

کچھ کیسز میں چوری شدہ ڈیٹا میں فون نمبر، عطیہ کی تاریخ اور تقریبات شامل تھیں تاہم کریڈٹ کارڈ اور ادائیگی کی دیگر تفصیلات اب تک کی معلومات کے مطابق عیاں نہیں ہوئیں۔

بلیک باؤڈ جس کا ہیڈ آفس جنوبی کیرولائنا میں واقع ہے،اس نے متاثرہ افراد کی مکمل فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'وہ اپنے صارفین کی رازداری کا احترام کرنا چاہتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ "ہمارے صارفین کی اکثریت اس واقعے کا حصہ نہیں بنی ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ 'مئی 2020 میں ہمیں تاوان طلب کرنے کے لیے ایک حملے کا معلوم ہوا تھا، جسے روک لیا گیا تھا اور حملہ آور کو روکے جانے سے قبل اس نے ہمارا ڈیٹا ہٹا دیا تھا'۔

بیان میں کہا گیا کہ بلیک باؤڈ نے تاوان کا مطالبہ پورا کیا، ایسا کرنا غیر قانونی نہیں ہے لیکن ایف بی آئی، این سی اے اور یورو پول سمیت متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تجویز کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'انہیں تصدیق ہوئی کہ (ڈیٹا) جو انہوں نے ڈیلیٹ کیا تھا اسے ختم کردیا گیا ہے'۔

بلیک باؤڈ کے وہ صارفین جو اس حملے میں متاثر نہیں ہوئے وہ یہ ہیں:

  • یونیورسٹی کالج لندن

  • کوئینز یونیورسٹی بیل فاسٹ

  • ویسٹ آف اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی

  • اسلامک ریلیف

  • پریونٹ بریسٹ کینسر

آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کے سائبر سیکیورٹی کے ماہر اور سابقہ طالب علم رائس مورگن کا کہنا تھا کہ 'میری بنیادی تشویش یہ ہے کہ بلیک باؤڈ یونیورسٹیوں کو کیسے یقین دلائے گا کہ ہیکرز نے کیا ڈیٹا حاصل کیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میری یونیورسٹی کو بتایا گیا کہ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ چوری شدہ ڈیٹا کا غلط استعمال کیا جائے گا یا کیا جاچکا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس سے کسی طرح سے تسلی محسوس نہیں کر سکتا، وہ کیسے جان سکتے ہیں کہ حملہ آور اس معلومات کا کیا کریں گے؟'۔