سنگاپور کے شہری کا امریکا میں چین کیلئے جاسوسی کا اعتراف

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2020

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگاپور سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے چین کے لیے امریکا میں جاسوسی کا اعتراف کرلیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جون وی ییو نے وفاقی عدالت میں چینی حکومت کے غیر قانونی ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا جرم قبول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم، دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی

سی این این کی رپورٹ کے مطابق سنگاپورین نوجوان نے چینی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر 2015 سے 2019 کے دوران معلومات جمع کرنے کے لیے جاسوسی کی۔

اس سے قبل جون وی ییو پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے چینی انٹیلی جنس کے لیے قیمتی، غیر عوامی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے سیاسی مشاورت کو بطور آلہ استعمال کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق چین کے انٹیلی جنس اداروں نے مذکورہ شخص کو 2015 میں بھرتی کیا اور بیجنگ میں بریفنگ دی۔

جون وی ییو نے اعتراف کیا کہ امریکیوں کو اعلیٰ سطح کی حفاظتی منظوری دے کر انہیں جعلی رپورٹس لکھنے پر مجبور کیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جب وہ چین کے لیے امریکا کے خلاف جاسوسی پر آمادہ ہوا تب جون وی ییو سنگاپور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم تھا۔

مزیدپڑھیں: امریکا کا چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم، دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی

اعترافی بیان کے مطابق سنگاپور سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے لنکڈاِن جیسی پیشہ ورانہ سوشل ویب سائٹ کا استعمال کر کے اپنے اہداف سے رابطہ بحال کیا تاکہ حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی کی کوشش کی جائے۔

جون وی ییو کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ 2019 میں امریکا پہنچے۔

واضح رہے کہ چین اور امریکا کے مابین کشیدگی سفارتی سطح تک بڑھ گئی ہے۔

امریکا نے چین پر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور دانشورانہ املاک چوری کا الزام عائد کیا ہے لیکن بیجنگ کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا عالمی معاشی طاقت کے طور پر اس کے عروج کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکا نے چینی سیاست دانوں پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں، واشنگٹن نے انہیں سنکیانگ میں مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

بیجنگ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور امریکا پر اپنے داخلی امور میں ’مداخلت‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

مزیدپڑھیں: بلیک باؤڈ ہیک: برطانیہ، امریکا اور کینیڈا کی کئی جامعات کا ڈیٹا چوری

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ہیوسٹن میں قائم چینی قونصل خانہ بند کرنے کے حکم کے جواب میں چین نے امریکا کو چینگڈو شہر میں قونصل خانہ فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکا نے چین کو ہیوسٹن کا قونصل خانہ 72 گھنٹوں میں خالی کرنے کا حکم دیا تھا تو چین نے خبردار کیا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرے گا ساتھ ہی امریکا پر زور دیا تھا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکا کے اقدام نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی روایات کی علاوہ چین، امریکا قونصلر کنونشن کی شرائط کو بھی پامال کیا‘۔

تبصرے (0) بند ہیں