روسی نیوی ہائیپر سونک نیوکلیئر اسلحے سے لیس ہوگی، پیوٹن

27 جولائ 2020

ای میل

پیوٹن نے کہا کہ روسی نیوی کو مزید 40 جہاز ملیں گے—فوٹو:رائٹرز
پیوٹن نے کہا کہ روسی نیوی کو مزید 40 جہاز ملیں گے—فوٹو:رائٹرز

روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روسی نیوی ہائیپر سونک نیوکلیئر اسٹرائیک اور زیر سمندر نیوکلیئر ڈرون سے لیس ہوگی جو آزمائش کے آخری مراحل میں ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی بحری بیڑوں، نیوکلیئر آبدوزوں اور نیول ایوی ایشن کی سالانہ نمائش کےموقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ نیوی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہورہاہے اور رواں برس مزید 40 جہاز شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا فرانس سے ہنگامی بنیادوں پر ہیمر میزائل خریدنے کا فیصلہ

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ روسی نیوی کو نیا ہائپر سونک اسلحہ کب ملے گا لیکن جلد فراہم کرنے کا عندیہ دیا۔

روسی صدر نے کہا کہ 'ہائپر سونک اسٹرائیک سسٹم اور زیرسمندر ڈرونز سمیت جدید ڈیجیٹیل ٹیکنالوجی کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے، اس سے فلیٹ کو منفرد اہمیت ملے گی اور صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا'۔

ایک اور بیان میں روس کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ پوزیڈون ڈرون لے جانے کی صلاحیت رکھنے والی پہلی آبدوز بیلگوروڈ آزمائش کے مرحلے میں ہے اور تکمیل کے قریب ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'نیوی کے لیے جدید اسلحے کا نظام تشکیل دینے کا کام کامیابی سے مکمل ہورہا ہے'۔

رپورٹ کے مطابق روسی نیوی کوملنے والا جدید اسلحہ زیرسمندر نیوکلیئر ڈرون پوسیڈن بھی ہے، جس کو آبدوز سے منسلک کیا جائے گا، زرکون ہائپرسونک کروز میزائل کو بحری جہاز میں نصب کیا جاسکے گا۔

ہائپر سونک میزائل کا سراغ لگانا اس کی رفتار کے باعث انتہائی مشکل ہوگی کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا اور روس نے جوہری ہتھیاروں کا تاریخی معاہدہ ختم کردیا

یاد رہے کہ پیوٹن نے گزشتہ برس دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے یورپ میں نیوکلیئر اسلحہ منتقل کیا تو بحری بیڑے اور آبدوزوں میں ہائپرسونک میزائل نصب کریں گے جو امریکا سے باہر سمندری حدود میں اس کی نگرانی کرے گا۔

تاہم امریکا نے یورپ میں میزائل نصب نہیں کیے تاہم روس کو اس معاملے پر تشویش لاحق ہے۔

پیوٹن اکثر اپنے بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ وہ اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتے تاہم روس کے لیے جدید اسلحے کی بات کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس طرح کا اسلحہ کہیں اور تیار نہیں ہو سکا اور دنیا میں کہیں بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

روسی صدر کے ان بیانات پر چندمغربی ماہرین اسلحے کی ساخت کے حوالے سے سوال بھی کرتے رہے ہیں۔