بھارت کا فرانس سے ہنگامی بنیادوں پر ہیمر میزائل خریدنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 26 جولائ 2020

ای میل

ہیمر اسٹینڈ آف میزائل 70 کلومیٹر کے فاصلے سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے—فوٹو: ٹریپ ٹاؤن
ہیمر اسٹینڈ آف میزائل 70 کلومیٹر کے فاصلے سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے—فوٹو: ٹریپ ٹاؤن

چین کے ساتھ تنازع کے دوران رافیل جنگی طیاروں کے ملک پہنچنے سے قبل ہی بھارت نے فرانس سے ہنگامی بنیادوں پر ہیمر میزائل خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہیمر میزائلوں کا مقصد رافیل جنگی طیاروں کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کو فرانس سے پہلا رافیل طیارہ موصول

رپورٹ کے مطابق ہیمر اسٹینڈ آف میزائل 70 کلومیٹر کے فاصلے سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مسلح افواج کو تفویض کردہ ہنگامی اختیارات کے بعد ہیمر اسٹینڈ آف میزائل کے حصول کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اے این آئی' نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 'ہیمر میزائل کے حصول کے لیے آرڈر دیا جاچکا ہے جبکہ فرانس نے رافیل جنگی طیاروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر میزائل فراہم کرنے کی حامی بھری ہے'۔

ان کے مطابق فرانس کی جانب سے بھارت کو ہنگامی بنیاد پر میزائل فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ میزائل پہلے سے ہی کسی دوسرے ملک کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

ہیمر میزائل (انتہائی چست) درمیانے فاصلے پر ہوا سے زمینی ہدف کے لیے ہے جو ابتدائی طور پر فرانسیسی فضائیہ اور بحریہ کے لیے ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رافیل معاہدے کی خفیہ دستاویزات 'چوری' ہوچکی ہیں، بھارتی حکومت

ذرائع نے بتایا کہ ہیمر میزائل سے بھارت کو یہ صلاحیت حاصل ہوگی کہ وہ مشرقی لداخ جیسے پہاڑی مقامات سمیت کسی بھی خطے میں کسی بھی قسم کے بنکر یا سخت پناہ گاہیں تباہ کرسکتا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے ترجمان نے نئے میزائل کے حصول سے متعلق پیشرفت کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

خیال رہے کہ 29 جولائی کو پانچ رافیل جنگی طیارے فرانس سے بھارت پہنچیں گے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2019 میں فرانس نے 2016 میں 36 طیاروں کی خریداری کے لیے طے پانے والے معاہدے کے تحت پہلا رافیل طیارہ بھارت کے حوالے کردیا تھا۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو رافیل طیاروں کی خریداری میں منظور نظر کمپنی کو نوازنے اور کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے کو خوب اچھالا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی عدالت نے رافیل طیارہ کیس میں مودی حکومت کو کلین چٹ دے دی

بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کا آغاز 2012 میں ہوا تھا جو دو سال تک معطل رہا تھا، تاہم 2014 میں مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد اس حوالے سے دوبارہ مذاکرات شروع کردیے تھے۔

ستمبر 2016 میں دونوں ممالک نے 8 ارب 80 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جس میں 36 رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے دستخط کیے گئے تھے جو طیاروں کی خریداری کا سب سے مہنگا معاہدہ تھا۔