وزارتوں کو ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2020

ای میل

وزارتوں اور محکموں نے سول سرونٹس کے کیسز کو دیکھنے کے لیے 2 علیحدہ ریٹائرمنٹ کمیٹیز تشکیل دے دی ہیں—فائل فوٹو: عمران خان فیس بک
وزارتوں اور محکموں نے سول سرونٹس کے کیسز کو دیکھنے کے لیے 2 علیحدہ ریٹائرمنٹ کمیٹیز تشکیل دے دی ہیں—فائل فوٹو: عمران خان فیس بک

اسلام آباد: حکومت نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ گریڈ ایک سے 19 کے ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹیوں کے اجلاس بلائے جائیں جس کے نتیجے میں کارکردگی نہ دکھانے والے ملازمین کو 60 برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ’سول سرونٹ (ڈائریکٹری ریٹائرمنٹ فرام سروس) رولز 2020‘ نوٹیفائیڈ کردیے ہیں، جس کے تحت ملازمین کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر 60 برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ریٹائرڈ کیا جاسکتا ہے۔

چنانچہ تمام وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ’20 سال سروس کرنے والے تمام ملازمین کی فہرستیں تیار کی جائیں جن کی کارکردگی کا جائزہ متعلقہ ریٹائرمنٹ بورڈ اور کمیٹیز لیں گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ریٹائرمنٹ کے قواعد سرکاری افسران کیلئے تشویش کا باعث

حالیہ آفس میمورنڈم میں کابینہ سیکریٹریٹ کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزرتوں، محکموں اور شعبہ جات کو گریڈ 17 سے 19 اور گریڈ ایک سے 16 تک کے سول سرونٹس کی ریٹائرمنٹ کمیٹیوں کے اجلاس کی تاریخیں 31 جولائی تک بتانے کی ہدایت کی ہے۔

وزارتوں اور محکموں نے سول سرونٹس کے کیسز کو دیکھنے کے لیے 2 علیحدہ ریٹائرمنٹ کمیٹیز تشکیل دے دی ہیں۔

ان میں سے ایک کمیٹی کی سربراہی متعلقہ وزارت کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل سیکریٹری کے پاس ہے اور اسٹیبشلمنٹ ڈویژن، محکمہ قانون اور خزانہ کے گریڈ 20 کے افسران شامل ہوں گے جو گریڈ 17 سے 19 کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

مزید پڑھیں:سول سرونٹس کی کارکردگی بہتر کیسی ہوگی؟

ہر وزارت میں بنائی گئی دوسری کمیٹی کی سربراہی گریڈ 20 کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری یا جوائنٹ سیکریٹری کریں گے اور اس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، محکمہ قانون، خزانہ اور متعلقہ محکمے کے ہیومن ریسورس کے گریڈ 19 کے افسران شامل ہوں گے جو گریڈ 16 سے کم کے ملازمین کی کارکردگی جانچیں گے۔

وزیراعظم نے سول سرونٹس (ڈائریکٹری ریٹائرمنٹ فراہم سروس) رولز 2020 کی منظوری دی تھی جنہیں 15 اپریل کو نوٹیفائیڈ کیا گیا تھا۔

اس میں ملازمت میں 60 سال کی عمر تک پہنچنے کی شرط کو ختم کردیا گیا تھا اور ملازمین اور افسران کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر 60 سال کی عمر ہونے سے پہلے بھی ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیوروکریسی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

سول سرونٹ جس کے خلاف متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ دیا جائے گا وہ اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق پینشن اور ریٹائرمنٹ کی دیگر مراعات سے مستفید ہوسکے گا۔

اس کے علاوہ جس سول سرونٹ کے خلاف ریٹائر کرنے کا حکم دیا جائے گا اسے سول سرونٹس (اپیل) رولز 1977 کے تحت اپیل کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔