پی سی بی نے انگلینڈ میں قومی ٹیم کا سامان ضبط کرنے کی دھمکی مسترد کردی

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2020

ای میل

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کا سامان ضبط کیے جانے کا امکان بہت کم ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کا سامان ضبط کیے جانے کا امکان بہت کم ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے خلاف مقدمہ جیتنے والی کمپنی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا سامان ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ان رپورٹس اور دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے۔

نیب کے خلاف مقدمہ جیتنے والی کمپنی براڈشیٹ ایل ایل سی کے وکیل کی جانب سے تحریر کردہ خط میں کہا گیا کہ پاکستان اور نیب مقدمہ ہارنے کے بعد 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد ہرجانے کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں جس پر مقامی عدالت کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہ عمل دو دن میں شروع کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: متعدد کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر شدید دباؤ کا شکار تھے، وسیم خان

خط میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیم قدرتی طور پر مدعا علیہ کا اثاثہ ہے اور اس تناظر میں ٹیم کے اثاثے مدعا علیہ کے اثاثے تصور کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں پاکستانی وکلا سے کہا گیا کہ اگر وہ اس مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں تو وہ فوری طور پر اس خط کا جواب دیں بصورت دیگر کمپنی اس دھمکی کو عملی جامع پہنانے میں حق بجانب ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: فواد عالم کا پراسرار معاملہ

مشہور کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطے میں ہیں اور انہیں انتہائی اطمینان ہے کہ اس بات پر عمل کیے جانے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اس اطمینان کی وجہ قانونی رائے ہے جس کے تحت پاکستان ٹیم دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندہ ہے اور بورڈ حکومت پاکستان یا ریاست کے ماتحت آنے کے بجائے ایک خودمختار ادارہ ہے لہٰذا وہ اس معاملے میں ہرجانہ ادا کرنے کی ذمے دار نہیں۔

یاد رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں برطانیہ اور امریکا میں 200 پاکستانیوں کے اثاثوں کی کھوج لگانے کے لیے براڈشیٹ ایل ایل سی کی پیشہ ورانہ خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

دلچسپ امر یہ کہ اس تمام کارروائی میں آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو بطور خاص ہدف بنایا گیا تھا کیونکہ معاہدے کے تحت مقررہ اہداف سے وصول شدہ رقم میں سے 20 فیصد کمپنی کو ادا کی جانی تھی البتہ ان شخصیات کے خلاف الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نتیجتاً برطانیہ سے رقم بھی واپس نہیں لائی جا سکی۔

مزید پڑھیں: سہیل خان کی پھر تباہ کن باؤلنگ، ٹیم منیجمنٹ کو امتحان میں ڈال دیا

قومی احتساب ادارے نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے 2003 میں منسوخ کردیا گیا تھا اور اس معاہدے کی منسوخی کی وجہ سے ہی تنازع کھڑا ہوا تھا جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا اور عالمی ثالثی عدالت نے برطانوی کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نیب کمپنی کو ہرجانہ ادا کرنے کا پابند ہے۔

براڈ شیٹ کمپنی کی جانب سے یہ خط ایلن اینڈ اووری کو لکھا گیا ہے کیونکہ یہ کمپنی مقدمے میں حکومت پاکستان اور نیب کی نمائندگی کر رہی تھی۔

ڈان نیوز کی تحقیق کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا براڈ شیٹ ایل ایل سی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور نیب کے مابین ثالثی اور ہرجانے کی وصولی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا 1962 کے آرڈیننس کے تحت کارپوریٹ ادارے کی حیثیت سے قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کو پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کے انتظامی امور، مینجمنٹ اور فروغ کے حوالے سے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے آئین کے تحت ایک آزاد ادارے کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو حکومت کے دائرہ اختیار سے آزاد ہے، ادارہ اپنا ریونیو خود پیدا کرتا ہے اور اس سلسلے میں صوبائی یا وفاقی حکومت سے کوئی امداد وصول نہیں کرتا۔

پاکستانی ٹیم، انگلینڈ میں تین ٹیسٹ اور تین ٹی 20 میچوں کی سیریز کے لیے موجود ہے اور سیریز کا آغاز 5 اگست سے مانچسٹر میں ٹیسٹ میچ سے ہو گا۔