امبر ہرڈ تشدد کیس کی سماعتیں مکمل، فیصلہ چند ماہ میں سنایا جائے گا

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

تین ہفتوں تک جاری رہنے والی سماعتوں میں امبر ہرڈ بھی شریک ہوئیں — فوٹو: اسکائے نیوز
تین ہفتوں تک جاری رہنے والی سماعتوں میں امبر ہرڈ بھی شریک ہوئیں — فوٹو: اسکائے نیوز

ہولی وڈ اداکار 57 سالہ جونی ڈیپ کی جانب سے برطانوی اخبار ’دن سن‘ کے خلاف دائر کیے گئے سول مقدمے کی سماعتیں مکمل ہوگئیں۔

یہ کیس اپریل 2018 میں جونی ڈیپ نے برطانوی اخبار کے خلاف دائر کیا تھا۔

’دی سن‘ نے اپنے مضمون میں جونی ڈیپ کو ’بیوی پر تشدد کرنے والا‘ شخص قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کس طرح جونی ڈیپ نے اپنی اہلیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

مضمون میں جہاں جونی ڈیپ کو بیوی پر تشدد کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا، وہیں ان کی سابق اہلیہ امبر ہرڈ کو ایک مظلوم خاتون کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔

اخبار کی جانب سے مضمون شائع کیے جانے کے بعد جونی ڈیپ نے اخبار کے خلاف برطانوی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے اخبار کے خلاف 2 لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا۔

اسی کیس کو خارج کروانے کے لیے دی سن نے عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی مگر عدالت نے اخبار کی درخواست مسترد کردی تھی۔

مذکورہ کیس کی باضابطہ سماعتوں کا آغاز رواں ماہ 7 جولائی کو ہوا تھا اور ابتدائی طور پر جونی ڈیپ نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’بیوی پر تشدد کرنے والا‘ لکھنے پر جونی ڈیپ کا برطانوی اخبار پر مقدمہ

جونی ڈیپ نے 14 جولائی تک اپنے بیانات ریکارڈ کروائے، جس دوران انہوں نے سابق اہلیہ امبر ہرڈ پر ہر طرح کے تشدد کے الزامات کو مسترد کیا۔

اپنے بیانات میں جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ پر کسی بھی قسم کا تشدد نہ کرنے کا دعویٰ کیا جب کہ ان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اداکار نے زندگی میں کبھی کسی خاتون کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔

جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے 2015 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے 2015 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

جونی ڈیپ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ الٹا انہیں سابق اہلیہ امبر ہرڈ تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور ایک بار تو انہیں نے ان کی انگلیاں تک توڑ دی تھیں۔

جونی ڈیپ کے وکلا نے عدالت میں امبر ہرڈ پر شادی کے بعد غیر محرم مرد حضرات ایلون مسک اور ہولی وڈ اداکار جیمز فرانکو سے ناجائز جنسی تعلقات کے الزامات بھی لگائے۔

جونی ڈیپ کے بعد 20 جولائی سے لے کر 26 جولائی تک امبر ہرڈ نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ جونی ڈیپ نے 2013 سے 2016 تک انہیں مختلف مواقع پر 14 بار تشدد کا نشانہ بنایا۔

امبر ہرڈ نے عدالت میں ایک بار سابق شوہر کو مکا مارنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

اداکارہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی جونی ڈیپ کا رویہ تبدیل ہوگیا تھا اور وہ انہیں اس قدر تشدد کا نشانہ بناتے تھے کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مرجائیں گی۔

امبر ہرڈ نے الزام عائد کیا تھا کہ جونی ڈیپ انہیں دوسرے مرد حضرات سے گینگ ریپ کروانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: اہلیہ تشدد کیس میں جونی ڈیپ کے بیانات مکمل

اداکارہ نے سابق شوہر کے وکلا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے کبھی بھی ایلون مسک اور اداکار جیمز فرانکو سے ناجائز تعلقات نہیں رہے۔

اداکارہ کے وکلا نے جونی ڈیپ کو خواتین پر تشدد کرنے والا جانور قرار دیا تھا۔

اسی کیس میں 27 اور 28 جولائی کو جونی ڈیپ، برطانوی اخبار دی سن کے وکلا اور امبر ہرڈ کے وکلا نے حتمی دلائل دیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائے نیوز کے مطابق حتمی دلائل کے دوران جونی ڈیپ کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ امبر ہرڈ نے عدالت کو گمراہ کیا اور انہوں نے خود پر تشدد کی تاریخیں ایک بار پھر بدل دیں۔

جونی ڈیپ کے وکلا کے مطابق ماضی میں اداکارہ تشدد کی دوسری تاریخیں بتاتی رہی ہیں اور عدالت میں انہوں نے دوسری تاریخیں بتائیں۔

شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے شوہر پر تشدد کا الزام لگا کر طلاق حاصل کی تھی—فائل فوٹو: ڈیلی ایکسپریس یوکے
شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے شوہر پر تشدد کا الزام لگا کر طلاق حاصل کی تھی—فائل فوٹو: ڈیلی ایکسپریس یوکے

اداکار کے وکلا نے امبر ہرڈ کو جھوٹا قرار دیا، تاہم دوسری جانب برطانوی اخبار دی سن اور امبر ہرڈ کے وکلا نے جونی ڈیپ کو خواتین پر تشدد کرنے والا شخص قرار دیا۔

برطانوی اخبار کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ ثابت ہوگیا کہ جونی ڈیپ نے 14 مواقع پر امبر ہرڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ کہ وہ دوسری خواتین پر بھی تشدد کرتے رہے ہیں۔

اسکائے نیوز کے مطابق 28 جولائی کو تمام فریقین کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل دیے جانے کے بعد عدالت نے غیر معینہ مدت تک سماعت ملتوی کردی۔

نشریاتی ادارے کے مطابق اگست اور ستمبر میں لندن کی عدالتوں میں سالانہ چھٹیاں ہوتی ہیں، جس وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ فیصلہ آئندہ چند ماہ میں سنایا جائے گا۔

رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا کہ عین ممکن ہے کہ مذکورہ فیصلہ آئندہ سال سنایا جائے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

اسی حوالے سے شوبز ویب سائٹ بل بورڈز نے اپنی رپورٹ میں خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ فیصلے کے نتائج کے اثرات جونی ڈیپ کے امریکی عدالت میں سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف دائر کیے گئے فیصلے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

عدالت میں جونی ڈیپ نے سابق بیوی پر تشدد کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا—فوٹو: اے پی
عدالت میں جونی ڈیپ نے سابق بیوی پر تشدد کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا—فوٹو: اے پی

رپورٹ کے مطابق اگرچہ جونی ڈیپ اور دی سن کے درمیان چلنے والا مقدمہ فوجداری نہیں، تاہم اگر مذکورہ کیس کا فیصلہ برطانوی اخبار کی حمایت میں دیا گیا تو اداکار کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر مذکورہ فیصلہ جونی ڈیپ جیت بھی جاتے ہیں تو بھی انہیں ایک قسم کا نقصان ہی ہوگا، کیوں کہ مذکورہ کیس سے ان کی شہرت کو ٹھیس پہنچی ہے۔

اگر عدالت جونی ڈیپ کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو برطانوی اخبار انہیں 2 لاکھ یورو تک کی رقم ادا کرے گا اور اخبار کو سنگین ہدایات بھی دی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تشدد کیس میں امبر ہرڈ کے بیانات بھی مکمل

تاہم اگر فیصلہ اداکار کے خلاف سنایا گیا تو ان کی جانب امبر ہرڈ کے خلاف امریکی ریاست ورجینیا کی عدالت میں دائر کیے گئے فیصلے پر بھی پڑے گا اور ممکنہ طور پر اس کیس کا فیصلہ بھی اداکار کے خلاف سنایا جائے گا۔

امریکی ریاست ورجینیا کی عدالت میں جونی ڈیپ نے 2018 میں امبر ہرڈ کے خلاف 5 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

جونی ڈیپ نے مذکورہ مقدمہ امبر ہرڈ کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے ایک مضمون کے بعد دائر کیا تھا۔

مضمون میں امبر ہرڈ نے جونی ڈیپ کا نام لکھے بغیر خود پر گھریلو تشدد کے معاملات پر کھل کر بات کی تھی اور مضمون کی اشاعت کے بعد جونی ڈیپ پر خوب تنقید کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 57 سالہ جونی ڈیپ اور 34 سالہ امبر ہرڈ کے درمیان 2011 میں تعلقات استوار ہوئے تھے اور دونوں نے فروری 2015 میں شادی کی تھی۔

شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے مئی 2016 میں جونی ڈیپ پر تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

امبر ہرڈ نے دعویٰ کیا کہ جونی ڈیپ نے انہیں 14 بار تشدد کا نشانہ بنایا—فوٹو: رائٹرز
امبر ہرڈ نے دعویٰ کیا کہ جونی ڈیپ نے انہیں 14 بار تشدد کا نشانہ بنایا—فوٹو: رائٹرز