پشاور جوڈیشل کمپلیکس کے کمرہ عدالت میں توہین مذہب کا ملزم قتل

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

سی سی پی اور کے مطابق  ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز
سی سی پی اور کے مطابق ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں توہین مذہب و توہین رسالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران معمر ملزم کو قتل کردیا گیا۔

اس حوالے سے پولیس نے ڈان کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ (29 جولائی) کو پیش آیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود وکیل نے کہا کہ مقتول کے خلاف توہین مذہب و رسالت کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ملزم کو پشاور سینٹرل جیل سے عدالت لایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ''اس کیس کی سماعت کے دوران شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ملزم ایک احمدی ہے اور اسے کلمہ طیبہ کی تلاوت کرنے کا کہا تھا''۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص پر مقدمہ

وکیل نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ نے پھر اس بزرگ پر فائرنگ کی اور اسے ہلاک کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے متوفی کے احمدی ہونے کی تردید کی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مقتول احمدی پیدا ہوا تھا لیکن بہت سال پہلے اس کمیونٹی کو چھوڑ چکا تھا۔

خیال رہے کہ جوڈیشل کمپلیکس، مرکزی خیبر روڈ پر ایک اعلیٰ سیکیورٹی زون میں واقع ہے جہاں صوبائی اسمبلی کی عمارت، پشاور ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور گورنر ہاؤس بھی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی دروازے اور اندر سیکیورٹی بھی زیادہ ہے۔

پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او) محمد علی گنڈا پور اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس(آپریشنز) منصور امان نے کمرہ عدالت کا دورہ کیا جہاں اس شخص کا قتل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : توہین مذہب کیس میں لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم

محمد علی گنڈا پور نے کہا کہ ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا، سی سی پی او نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس بہت کم معلومات ہیں لیکن ہم نے قتل کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

ساتھ ہی ایس ایس پی منصور امان نے کہا کہ ملزم سے اسلحہ کو بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں پولیس افسر کی شکایت پر فائرنگ کرنے والے شخص کے خلاف دفعہ 302، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن7 اور آرمز ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی۔

پولیس نے بورڈ بازار کے رہائشی، مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی منتقل کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 11ویں خلیفہ کا دعویٰ کرنے والا شخص توہین مذہب کے الزام میں گرفتار

اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول کے خلاف2018 میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی، ڈان ڈاٹ کام کے پاس موجود ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ مقتول کا تعلق احمدی برادری سے ہے، جس نے ' ان سے فیس بک پر دوستی کی تھی' اور اس کے بعد بات چیت کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ وہ 'چودھواں مجدد' ہے۔

شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں کہا تھا کہ ملزم نے بعدازاں بات چیت کے لیے شہر کے ایک مال میں دعوت دی تھی جہاں انہوں نے اپنے عقیدے سے متعلق بات چیت کرنا شروع کی تھی،مزید برآں ایف آئی آر میں مزید الزامات بھی لگائے گئے تھے۔

مقتول پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153-اے، دفعہ 295-اے، دفعہ 295-بی، دفعہ 295-سی اور دفعہ 298 کےتحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔