بل جو غیر متنازع ہوسکتا تھا حکومت نے متنازع کردیا، بلاول

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ این آر او، این آر او کہہ کر اصل این آر او کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے جو زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن کو دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے درکار قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کو کشمیر کا سفیر بننا تھا آج کلبھوشن کا وکیل ہے، ہمیں این آر او، این آر او کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فضل الرحمٰن کی آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات، سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک بل جو غیر متنازع ہوسکتا تھا آپ نے متنازع کردیا اور پی ٹی آئی اپنے آرڈیننس کو پاس کرانے کے لیے ہم سے بات کررہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جھوٹ کی بنیاد پر چاہتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو نیب کے ساتھ نتھی کیا جائے، حکومت کے جھوٹ اور آمرانہ کوشش کے باوجود ملک کے لیے ایف اے ٹی ایف قانون سازی میں ساتھ ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کے فیصلے کے بعد نیب اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمران خان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں سب سے زیادہ کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ وہ نیب کو استعمال کرکے اپوزیشن جماعتوں کے سیاست دانوں سے انتقام لے رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو مخاطب کرکے کہا کہ شہزاد اکبر کو پہلے اپنے اثاثوں کا حساب دینا چاہیے، اگر قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سے ثبوت مانگ رہے ہیں تو خود بھی جواب دیں کہ 2 سال سے اپنی غیرملکی جائیداد کیوں ڈکلیئر نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا عید کے بعد اے پی سی بلانے کا اعلان، 'حکومت سے جان چھڑانا اولین ضرورت ہے'

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کابینہ میں بیشتر افراد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہے اور وزیر اعظم عمران خان آج بھی اپنے مشیروں کی کرپشن کا تحفظ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود سب سے زیادہ ایمنسٹی لیں اور دیں، جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، مالم جبہ، بی آرٹی، چینی، آٹا چوری پر این آر او دلوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دو سال ہوگئے ہیں، عمران خان نے کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا جو عوامی مفاد میں ہو جبکہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ایک پیچ پر ہیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ہر تاجر نے کہا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی الزامات کا جواب عدالت میں دے رہے ہیں جبکہ سلیکٹڈ، کٹ پتلی وزیر اور وزیراعظم اسٹے آرڈ کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے حقوق کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی، بلاول کا دعویٰ

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسپیکر نے آج جو کردار ادا کیا وہ مناسب نہیں تھا لیکن پیپلز پارٹی جب تک ایوان کا حصہ ہے حکومت کی آمرانہ کوشش سے عوام کو آگاہ کریں گے۔

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔

ملاقاتوں کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مؤقف سامنے آیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے جان چھڑانا وقت کی اولین ضرورت ہے اور عید کے بعد رہبر کمیٹی کا اجلاس مشاورت کے بعد ایجنڈا طے کرے گا اور پھر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔