افغان حکومت، طالبان کا عید الاضحیٰ پر جنگ بندی کا اعلان

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

ذبیح اللہ مجاہد نے تمام طالبان کو شدت پسند کارروائیاں روکنے کا حکم دے دیا—فائل فوٹو: اے پی
ذبیح اللہ مجاہد نے تمام طالبان کو شدت پسند کارروائیاں روکنے کا حکم دے دیا—فائل فوٹو: اے پی

طالبان کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 دن کے لیے جنگ بندی کے جواب میں افغان حکومت نے بھی سیز فائر کا اعلان کردیا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر مذکورہ پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے 2 ماہ میں دوسری مرتبہ جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان صدر کا مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ 'عید الاضحیٰ کے مذہبی تہوار کے موقع پر طالبان کی جانب سے شدت پسند کارروائیاں نہیں کی جائیں گی'۔

ترجمان افغان طالبان نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا آغاز جمعے کے روز سے شروع ہوگا جو 3 روز تک نافذ العمل ہوگا۔

انہوں نے جنگجوؤں کو ہدایت کی کہ وہ عید کے تین دن اور تین راتوں کے دوران 'دشمن' کے خلاف کارروائیوں سے گریز کریں۔

علاوہ ازیں ترجمان طالبان نے دھمکی دی کہ 'اگر دشمن نے حملہ کیا تو جوابی کارروائی کی جائے گی'۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت نے تمام سیکیورٹی فورسز کو سیز فائر کا حکم دے دیا۔

صدیق صدیقی نے کہا کہ 'افغان حکومت، طالبان کی جانب سے عید الاضحیٰ پر جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتی ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ تمام سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ اگر طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو بھرپور جوابی کارروائی کی جائے'۔

واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت نے رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کے موقع پر بھی 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان طالبان رہنما کے عیدالفطر کے پیغام کے بعد جاری کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امن معاہدے پر قائم ہیں۔

بعدا زاں طالبان سے جنگ بندی کے تیسرے اور آخری روز اس میں توسیع کے مطالبے کے ساتھ افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زلمے خلیل زاد کا تمام فریقین سے افغانستان میں تشدد میں کمی کا مطالبہ

دوسری جانب افغان طالبان کے روپوش رہنما ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'ہم اقتدار پر مکمل قبضہ نہیں کرنا چاہتے، ہمارا جہاد قبضے کو ختم کرنے اور ایک خالص اسلامی نظام کے قیام کے لیے رہا ہے'۔

انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ نے کہا کہ 'ہم اپنی مجاہد اور ناراض قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا'۔

مختلف زبانوں میں جاری کیے جانے والے اس پیغام میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ افغانستان میں اسلامی نظام کا فروغ، آزادی اور طاقت کا انحصار افغان اتحاد پر ہے'۔

ملا ہیبت اللہ نے اپنے پیغام میں امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط اور بین الافغان مذاکرات کی کوششوں سے اتفاق کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم امن کی جانب گامزن ہیں اور قیدیوں کی رہائی اس کا ایک اہم حصہ ہے جو دونوں فریقین میں اعتماد کو پیدا کرکے گا امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا۔

طالبان رہنما کے پیغام کے جواب میں تاحال افغان حکومت کی جانب سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

امریکا-طالبان امن معاہدہ

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔

تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کے حوالے سے زیر گردش خبروں کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان

جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔

18 مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہیئیں۔

تاہم اسی شب طالبان نے قندوز میں حملہ کیا، اس حوالے سے افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔