ایران-سعودیہ ثالثی کیلئے کوششیں اب بھی جاری ہیں، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

یہ بات انٹرویو کی جاری کردہ جھلکیوں میں دیکھی گئی جبکہ مکمل انٹرویو بدھ کے روز نشر کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے  ایف پی
یہ بات انٹرویو کی جاری کردہ جھلکیوں میں دیکھی گئی جبکہ مکمل انٹرویو بدھ کے روز نشر کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی

دبئی: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی درخواست پر پاکستان کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کی کوششیں سست روی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

واشنگٹن کی جانب سے حوصلہ افزائی پر عمران خان نے گزشتہ برس اکتوبر میں تہران اور ریاض کا دورہ کیا تھا تا کہ خلیج میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد بات چیت میں سہولت کاری فراہم کرسکیں۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایران-سعودی عرب مذاکرات کیلئے عمران خان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں'

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماری ثالثی رکی نہیں، ہم آگے بڑھ رہے ہیں لیکن آہستہ‘۔

یہ بات انٹرویو کی جاری کردہ جھلکیوں میں دیکھی گئی جبکہ مکمل انٹرویو بدھ کے روز نشر کیا جائے گا۔

الجزیرہ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’ہم نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم روکنے کی حتی الامکان کوششیں کیں جو کامیاب رہیں‘۔

اس سے قبل پاکستان نے ماضی میں بھی 4 مرتبہ ثالثی کی کوشش کی ہے خاص کر 2016 کے آخر میں جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سعودی شیعہ عالم باقر النمر کی پھانسی کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کرنے کے لیے تہران اور ریاض کا دورہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران، سعودیہ تنازع سے خطے میں غیرمعمولی غربت بڑھے گی، عمران خان

سعودی عرب اور ایران حریف ممالک تصور کیے جاتے ہیں اور 2015 میں یمن جنگ کے بعد سے ان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

بعد ازاں حوثی باغیوں کی جانب سے آرامکو آئل تنصیبات پر حملے کے بعد سے اس کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔

چنانچہ گزشتہ برس ستمبر میں قوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یہ بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر وہ، ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔

اس کے چند گھنٹوں بعد امریکی صدر نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ’پاکستانی رہنما سے بہت اچھے تعلقات ہیں‘ اور اسی وجہ نے انہیں ان کوششوں میں شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث بن گئے

اس تناظر میں وزیراعظم 13 اکتوبر کو ایک روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے جس کے دورن انہوں نے کہا تھا کہ ہم برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع نہیں چاہتے، تصادم کی صورت میں خطے میں غربت اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے۔

بعدازاں 15 اکتوبر کو عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں ایران کے ساتھ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں پر زور دیا تھا۔

رواں برس جنوری میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان دنیا کے ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے آف ریمپ ڈپلومیسی میں مصروف عمل نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ تناؤ میں کمی کی کوششوں پر امریکا، وزیراعظم عمران خان کا معترف

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2015 کے وسط میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی صورت میں پابندیوں میں نرمی پر مشتمل جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے ایران اور امریکا کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہوئے ہیں۔

تاہم رواں برس جنوری میں عراق میں ایک ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا نے ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی نے جنم لے لیا تھا۔