کورونا سے جنگ کے دوران قومی ادارہ صحت ایک مرتبہ پھر سربراہ سے محروم

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام کی مدت ملازمت 20 جولائی کو مکمل ہوئی تھی اور تب سے یہ نشست خالی ہے ۔ فوٹو: این آئی ایچ ویب سائٹ
این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام کی مدت ملازمت 20 جولائی کو مکمل ہوئی تھی اور تب سے یہ نشست خالی ہے ۔ فوٹو: این آئی ایچ ویب سائٹ

اسلام آباد: جہاں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی کو نئے کیسز میں اضافے کی روک تھام کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت ہے وہیں قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ)، جس نے کورونا ٹیسٹ کے لیے متعدد لیبز کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 3 سال بعد پھر سے اپنے سربراہ سے محروم ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام کی مدت ملازمت 20 جولائی کو مکمل ہوئی تھی اور تب سے یہ ادارہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے بغیر کام کررہا ہے۔

2017 میں راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی کے اس وقت کے بریگیڈیئر پروفیسر ڈاکٹر عامر اکرام کو تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر این آئی ایچ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں تقریباً 3 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں، سروے

بعد ازاں مائکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر عامر اکرام کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی تاہم وہ 20 جولائی کو ریٹائر ہوگئے تھے اور تب سے یہ عہدہ خالی ہے۔

اس عہدے کو ڈیپوٹیشن کے ذریعے پُر کیا جانا ہے کیونکہ اس عہدے کے معیار کو پورا کرنا اتنا مشکل ہے کہ اس سے قبل 7 سال تک یہ نشست خالی رہی تھی۔

گزشتہ چار دہائیوں سے این آئی ایچ صحت سے متعلق سرگرمیوں جیسے تشخیصی خدمات اور تحقیق میں مصروف ہے۔

انسٹی ٹیوٹ انفلوئنزا کی تشخیص کے لیے قومی حوالہ مرکز ہونے کے علاوہ پولیو کے لیے وائرل تشخیص اور علاقائی ریفرنس لیبارٹری کے لیے ایک عالمی ادارہ صحت کا تعاون کرنے والا مرکز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق سروے کا فیصلہ

یہ منشیات کے کوالٹی کنٹرول اور کھانے کے کوالٹی کنٹرول کے لیے قومی تجربہ گاہ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارچ میں این آئی ایچ واحد لیب تھی جو کورونا کے ٹیسٹ کروا رہی تھی اور اس نے متعدد لیبز، کیسز کا ڈیش بورڈ وغیرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'یہ ادارہ اپنا سربراہ کھوچکا ہے اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نئے آنے والے کو پیتھالوجی اور صحت عامہ میں اسپیشلائزیشن، 21 سال کا تجربہ اور 10 تحقیقی مقالوں کی ضرورت ہوگی، مزید یہ کہ ان اصولوں میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ امیدوار نے ہسپتال کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہوں لیکن این آئی ایچ میں کوئی ہسپتال نہیں ہے اور ملک میں این آئی ایچ جیسا کوئی اور ادارہ بھی نہیں ہے تاکہ اس شرط کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا، میری تجویز ہے کہ قواعد میں کچھ نرمی دی جانی چاہیے'۔

سیکریٹری صحت عامر اشرف خواجہ اپنی رائے دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے، وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ اس عہدے کو پر کرنے کے لیے جلد ہی عمل شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اس عہدے کی اہمیت سے واقف ہے۔