امریکی سائنسدانوں کا کورونا وائرس کا ممکنہ علاج دریافت کرنے کا دعویٰ

04 اگست 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں  سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

امریکا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے کووڈ 19 باعث بننے والے نئے کورونا وائرس (سارس کوو 2) اور دیگر کورونا وائرسز کا ممکنہ علاج دریافت کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرسز عالمی سطح پر عوامی صحت کے لیے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں جس کا اندازہ 2002 کی سارس وبا، پھر مرس اور اب نئے کورونا وائرس کی وبا سے ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسین میں شائع تحقیق میں چھوٹے مالیکیول پروٹینزز انہیبیٹرز (protease inhibitors) کو دریافت کیا گیا جو انسانی کورونا وائرسز کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے کالج آف ویٹرنری سے تعلق رکھنے والے محققین کا کہنا تھا کہ ان کورونا وائرسز میں 3 سی جیسے پروٹینزز جن کو 3 سی ایل پرو کہا جاتا ہے، علاج کے ٹھوس ہدف ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ کورونا وائرس کی نقول بننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین اور علاج کو تشکیل دینا کووڈ 19 کے حوالے سے تحقیق کے سب سے بڑے اہداف ہیں اور یہ پروٹینزز انہیبیٹرز کورونا وائرسز کے 3 سی ایل پرو کو ہدف بناتے ہیں جو کہ علاج کے لیے اہم ہدف ہے۔

اس تحقیق کے دوران مرس اور سارس کوو 2 کورونا وائرسز کے نقول بننے کے عمل کو لیبارٹری میں خلیات میں بلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی جبکہ چوہوں میں مرس کی روک تھام بھی ممکن ہوئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس طرح کے مرکبات کے حوالے سے مزید تحقیق کی جانی چاہئے کیونکہ یہ انسانی کورونا وائرس انفیکشن کا ممکنہ علاج ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیقی ٹیم پہلے سے مرس اور انسانی نورووائرس کے علاج کے لیے اینٹی وائرل ادویات کی تیاری میں مصروف تھی اور اب اس کام کو نئے کورونا وائرس تک پھیلا دیا گیا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کو ابھی شائع کرنا سائنسی برادری کے لیے بہت اہم ہے، ہمارے خیال میں اس سے اینٹی وائرل فیلڈ میں قابل قدر معلومات کا اضافہ ہوسکے گا۔

خیال رہے کہ ابھی تک کورونا وائرس کے لیے کوئی ویکسین یا طریقہ علاج موجود نہیں، مگر اسٹیٹنز اور ریمیڈیسیور کے ٹرائلز کے نتائج اب تک مثبت رہے ہیں۔

اس سے قبل جون میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں ذیابیطس مریضوں کے لیے دستیاب دوا گلوکوزفیج یا میٹفورمن کو بھی کورونا وائرس کے بدترین اثرات کی روک تھام میں مددگار قرار دیا گیا تھا۔

مینیسوٹا یونیورسٹی کی پری پرنٹ تحقیق (ایسی تحقیق جو کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی ہو) میں دریافت کیا گیا کہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب یہ دوا کورونا وائرس کے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ کورونا وائرس کے خطرے کے عناصر پر ہونے والی چند بڑی مشاہداتی اسٹڈیز میں سے ایک تحقیق ہے، جس میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا اور ذیابیطس کووڈ 19 سے اموات کا باعث بننے والے 2 بڑے خطرات ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دریافت کیا گیا کہ گلوکوفیج سے کورونا وائرس سے موت کا خطرہ 21 سے 24 فیصد تک ان مریضوں میں کم کیا جاسکتا ہے جو پہلے ہی اس دوا کو ذیابیطس اور بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس دوا کو وائرس کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے، مگر نتائج سے کووڈ 19 جیسے وبائی امراض کے لیے ویکسین ہٹ کر قابو پانے کے نئے راستے کھل سکیں گے۔

جون میں ہی طبی جریدے سیل میٹابولزم میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے والی دوا اسٹیٹنز (Statins) نوول کورونا وائرس کے علاج میں مدد دے کر اموات اور میڈیکل وینٹی لیشن کی شرح کو کم کرسکتی ہے۔

یہ دوا عموماً کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ جانوروں میں پھیپھڑوں کی انجری کو بڑھنے سے روکنے، مدافعتی ردعمل بہتر اور ورم کم کرتی ہے، یہ تینوں مسائل کووڈ 19 کے مریضوں میں عام ہوتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ اس دوا کو استعمال کرنے والے افراد میں اموات کی شرح 45 فیصد تک کم ہوگئی۔

اسی طرح محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اسٹیٹنز کو بلڈ پریشر میں کمی لانے والی ادویات کے ساتھ استعمال کرانے سے اموات کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

ووہان یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج میں کووڈ 19 کے ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں میں اس دوا کے استعمال کو محفوظ اور فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔