بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی عائد

04 اگست 2020

ای میل

بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی صرف دارالحکومت اسلام آباد کے لیے ہے، شیریں مزاری — فائل فوٹو / وائٹ اسٹار
بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی صرف دارالحکومت اسلام آباد کے لیے ہے، شیریں مزاری — فائل فوٹو / وائٹ اسٹار

وفاقی حکومت نے گھروں میں کام کاج کے لیے بچوں کو ملازم رکھنے پر پابندی عائد کردی۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ 'وفاقی کابینہ کا فیصلہ 'بالآخر گزٹ نوٹی فکیشن کے ذریعے نافذ ہوگیا ہے اور 1991 کے چائلڈ ایمپلائمنٹ ایکٹ کے تحت بچوں کی گھریلو ملازمت ممنوع ہوگئی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی صرف دارالحکومت اسلام آباد کے لیے ہے، تاہم صوبے بھی اس کو آسان سی قرارداد کے ذریعے اسی طرح اپنا سکتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار بچوں کی گھریلو ملازمت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی کا فیصلہ

واضح رہے کہ 17 جولائی کو شیریں مزاری نے سینیٹ کو آگاہ کیا تھا کہ حکومت نے بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی سے متعلق بل کی منظوری دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی گھر سے شروع ہوتی ہے، تاہم گھروں میں کام کرنے والے بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے حکومت بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: بچوں کو گھریلو ملازم نہ رکھنے کے قانون پر عمل درآمد کروانے کا حکم

انسانی حقوق کی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں گزشتہ ایک سال سے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔