کراچی طیارہ حادثہ: لواحقین کو فی مسافر ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

کراچی طیارہ حادثے میں عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے — فائل/فوٹو:اے ایف پی
کراچی طیارہ حادثے میں عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے — فائل/فوٹو:اے ایف پی

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی انتظامیہ نے کراچی میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی مسافر ایک کروڑ روپے ادا کرنے کا اعلان کردیا۔

پی آئی اے کے مطابق سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک اور انشورنس کمپنی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں:طیارہ حادثہ: ورثا کو فی کس 50 لاکھ روپے ملیں گے، ترجمان پی آئی اے

خیال رہے کہ اس سے قبل تمام لواحقین کو پچاس لاکھ روپے ادا کیے جانے تھے جو کیرج بائی ائیر ایکٹ 2012 کے مطابق تھے۔

پی آئی اے کا کہنا تھا کہ اب تمام مسافروں کے قانونی ورثا کو ایک کروڑ روپے فی مسافر انشورنس کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق پی آئی اے پہلے ہی دس لاکھ روپے فی مسافر جنازے اور تدفین کے زمرے میں ادا کر چکی ہے۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ بڑھائی گئی انشورنس کی رقم پہلے سے ادا کی گئی رقم کے علاوہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نے اس سلسلے میں کام مکمل کرلیا ہے اور اب اسے قانونی ورثا کی جانب سے جانشینی کے سرٹیفیکیٹ کا انتظار ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں جاں بحق مسافروں کے ورثا کو خطوط ارسال کیے جارہے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ ایچ خان نے 29 مئی کو ڈان کو بتایا تھا کہ 'اے پی-بی ایل ڈی 2274 طیارے کے ڈھانچے کی انشورنس ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر تھی جسے پی آئی اے نے لیز پر حاصل کیا تھا اور ہر مسافر کو 50 لاکھ روپے ملیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی طیارہ حادثہ: فی مسافر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیرہوا بازی

مسافروں کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھی این آئی سی ایل سے 50 لاکھ روپے فی کس کے عوض انشورڈ تھے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہر مسافر کے اہلِ خانہ کو تدفین کے انتظامات کے لیے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کے قانونی ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس کی ادائیگی کی جائے گی'۔

یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر ماڈل کالونی میں رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔

بعدازاں اسی روز وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کے سپرد کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے 25 جون کو قومی اسمبلی میں مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ ہونے کے باعث ہمیں سانحے سے گزرنا پڑا۔

مزید پڑھیں:کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل تھیں اور 7 مئی کو اس طیارے نے پہلی فلائٹ لی اور 22 مئی کو حادثے کا شکار ہوا، اس دوران 6 مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں جن میں 5 پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کے لیے تھیں اور ایک شارجہ کے لیے تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ دونوں پائلٹس، کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ بھی تھے۔

غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔