لبنان کے دارالحکومت میں زور دار دھماکا، 25 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 05 اگست 2020

ای میل

دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی
دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگارہ کے علاقے میں زور دار دھماکے سے عمارتیں لرز اٹھیں اور سیاہ اور سرمئی رنگ کا دھواں پھیل گیا جبکہ 25 سے زائد افراد ہلاک اور 2 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق لبنانی حکام کا کہنا تھا کہ دھماکا بندرگاہ کے علاقے میں ہوا جہاں کئی گوداموں میں دھماکا خیز مواد رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جبکہ رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور متاثرہ افراد کو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں۔

لبنان کے وزیر صحت حماد حسن کا کہنا تھا کہ دھماکے سے بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں اور غیر معمولی نقصان ہوا ہے۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

لبنانی ہلال احمر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیکڑوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

جارج کیٹنہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں کی حتمی تعداد نہیں ہے کیونکہ دھماکے کے بعد گرنے والی عمارتوں کے ملبے میں لوگ دبے ہوئے ہیں، جبکہ کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو بچایا جارہا ہے۔

لبنان کے نشریاتی ادارے 'ایل بی سی آئی' کا ہوٹل ڈیو ہسپتال بیروت کے حوالے سے کہنا تھا کہ 500 سے زائد زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے اور مزید گنجائش نہیں ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا خون کے عطیات کی اپیل کرتے ہوئے کا کہنا تھا کہ درجنوں افراد کو آپریشن کی ضرورت ہے۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ 'میں نے آگ کا ایک گولا اور دھواں بیروت میں پھیلتے ہوئے دیکھا، لوگ چیخ رہے تھے اور خون بہہ رہا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عمارتوں کی بالکونیاں اڑ گئیں اور اونچی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر گلیوں میں بکھر گئے'۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں نے سرمئی رنگ کا دھواں آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا جس کے بعد دھماکے کی آواز آئی اور آگ کے شعلے بلند ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ قریبی علاقوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور سڑکوں پر موجود کئی افراد زخمی ہوگئے اور شہر میں ہر طرف افراتفری ہے۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ بندرگاہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کی آواز شہر کے بڑے حصے میں سنائی دی اور بعض اضلاع میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔

دھماکے کی وجوہات واضح نہیں

بیروت میں ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے کی وجہ تاحال واضح نہیں ہے۔

بیروت پورٹ کے گورنر نے 'اسکائی نیوز' کو بتایا کہ جائے وقوع پر موجود فائرفائٹرز کی ایک ٹیم دھماکے کے بعد سے لاپتہ ہے۔

دوسری جانب لبنان کی اندرونی سیکیورٹی کے سربراہ عباس ابراہیم کا کہنا تھا کہ دھماکا ان عمارتوں کے ایک حصے میں ہوا جہاں دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دھماکے کی وجہ بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ ہم اندازہ نہیں لگاسکتے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دھماکا بیروت کی بندرگارہ میں کسی واقعے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

شہریوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'عمارتیں جھول رہی تھیں، زور دار دھماکے نے بیروت کو گھیر لیا اور آواز میلوں دور تک سنائی دی'۔

میڈیا سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمارتوں کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا اور متعدد عمارتوں سمیت دیگر اشیا بھی تباہ ہوگئیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور پر دھماکے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں اور ہمارے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی رپورٹس بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں کہ ہوا کیا تھا، آیا یہ ایک حادثہ تھا یا قصداً کیا گیا تھا۔

امریکا کی جانب سے ردعمل دیتے ہوئے پینٹاگون کا کہنا تھا کہ 'ہم دھماکے سے باخبر ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر تشویش ہے'۔