’حکومت کو سرکاری اسکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے 50 ارب روپے درکار ہیں‘

اپ ڈیٹ 04 اگست 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرکاری اسکولز میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں مسئلہ ہے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرکاری اسکولز میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں مسئلہ ہے—فوٹو: ڈان نیوز

آل پاکستان پرائیوٹ اسکولز فیڈریشن اور کراچی پرائیوٹ اسکولز ایکشن کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر تمام تعلیمی ادارے 15 اگست سے کھولنے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ حکومت کو کورونا وائرس کے تناظر میں سرکاری اسکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے۔

آل پاکستان پرائیوٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے مزید کہا کہ ایک لاکھ 31 ہزار سرکاری اسکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے تقریباً 50 ارب روپے درکار ہیں اور اسی لیے حکومت نے اخرجات سے بچنے کے لیے پرائیوٹ اسکولوں کے ساڑھے 7 کروڑ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگادیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: 13 ممالک میں اسکول بند 29 کروڑ سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر

واضح رہے 21جولائی کو ملک بھر کی نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن نے حکومتی فیصلے کے بر خلاف 15 اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کردیا تھا۔

مذکورہ اعلان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آل پاکستان پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی ایک کانفرنس کے بعد عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ 15 اگست سے اسکول کھول دیں اور ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ’ہم اساتذہ ہیں، بچوں کے والدین کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے مسئلہ پر مہذب انداز میں بات چیت شروع کریں اور ہمیں گرفتاریوں سے مت ڈرائیں‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر حکومت نے لاٹھی برسائی تو لانگ مارچ کریں گے جس میں پاکستان بھر سے اساتذہ شریک ہوں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے لیگل سیل بنا دیا ہے جس کا اسکول بند کیا گیا تو اس کے ساتھ تعاون کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ جہاں حکام کو محسوس ہو کہ یہاں اسکول نہیں کھلنا چاہیے تو ہم وہاں آپ سے تعاون کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مستحق بچوں کو ماسک اور سینیٹائزر مفت فراہم کریں گے، اساتذہ کو آگاہی دیں گے اور ہم مرحلہ وار اسکول کا انتظام چلائیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ کا یکم جون سے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا اعلان

علاوہ ازیں 100 کتابوں پر پابندی سے متعلق کاشف مرزا نے کہا کہ ایسی کتابیں جن میں پاکستان کی تاریخ کو مسخ کیا گیا یا حقائق کے منافی باتیں تھی، ان کتابوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متنازع کتابوں کے پبلشرز کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے تھی۔

کاشف مرزا نے پنجاب کے وزیر تعلیم سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 100 کتابوں پر پابندی دراصل وزیر تعلیم کی نااہلی کا ثبوت ہے۔

دوسری جانب کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کراچی پرائیوٹ اسکولز ایکشن کمیٹی نے بھی 15 اگست سے اسکولز کھولنے کا اعلان کردیا۔

کمیٹی کے رہنما پروز ہارون نے 31 نکاتی ایس او پیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہمارے اداروں کی خبر گری نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کئی اسکول مالکان نے محنت مزدوری کرنا شروع کردی ہے۔

مزیدپڑھیں: وفاقی حکومت کا ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ

پرویز ہارون نے کہا کہ سروے کے مطابق 74 فیصد والدین بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ یو سیز میں صورتحال بہتر نہیں ہے اس لیے وہاں اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔

علاوہ ازیں آل پرائیوٹ اسکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ نے بھی کے متفقہ فیصلے کا احترام کرتے ہوئے حکومت 15 اگست سے اسکول کھولنے کی حمایت کردی۔

واضح رہے کہ جولائی کے آغاز میں ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کم ہونے کے پیش نظر تمام وزرائے تعلیم نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

اسلام آباد میں وزارت تعلیم کے ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم نے کانفرنس میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس او پیز کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا۔

مزیدپڑھیں: کورونا کا گراف مسلسل نیچے آنا تسلی بخش امر ہے، وزیر اعظم

انہوں نے بتایا تھا کہ کانفرنس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم شریک ہوئے تھے اور اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل کووڈ 19 کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 7 مئی کو وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولز، یونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز میں کمی ہوئی ہے جس کی ایک وجہ ٹیسٹ کی تعداد میں کمی بھی ہے، تاہم کیسز کی تعداد میں امید کی کرن ہے کیونکہ اس وبا کے خاتمے کے ساتھ ہی معمولات زندگی مکمل طور پر بحال ہوسکیں گے۔