اسرائیل کی بیروت دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید

اپ ڈیٹ 05 اگست 2020

ای میل

دھماکوں میں ہلاک افراد کی تعداد 100 تک پہنچ چکی—فوٹو: اے پی
دھماکوں میں ہلاک افراد کی تعداد 100 تک پہنچ چکی—فوٹو: اے پی

اسرائیلی حکومت نے مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 4 اگست کو ہونے والے دھماکوں میں کسی طرح بھی ملوث ہونے کی تردید کردی۔

اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 4 اگست کو بندرگاہ کا علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا تھا اور ابتدائی طور پر دھماکوں میں 25 افراد ہلاک جب کہ ڈھائی ہزار تک زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکے اس قدر شدید تھے کہ ان کی آوازیں اسرائیلی شہر قبرص تک سنائی دیں اور ان سے بیروت کی کئی کلو میٹر رقبے پھر پھیلی عمارتوں کو نقصان بھی پہنچا۔

دھماکوں کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے لبنان کی حکومت کو امداد کی پیش کش کی جب کہ ابتدائی طور پر دھماکوں میں تخریب کاری اور انتہاپسندی کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔

اگرچہ تاحال دھماکوں کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی تاہم لبنانی حکومتی ذرائع کے مطابق دھماکے بندرگاہ کے ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کی موجودگی کی وجہ سے ہوئے، تاہم اس حوالے سے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان کے دارالحکومت میں زور دار دھماکا، 25 افراد ہلاک

بیروت میں دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب کہ کچھ دن قبل ہی اسرائیلی حکومت نے لبنانی حکومت کو ایرانی انتہاپسند گروپ کا ساتھ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے—فوٹو: رائٹرز
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے—فوٹو: رائٹرز

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق دھماکوں سے قبل لبنان اور اسرائیل میں شدید تنازعات تھے اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے لبنانی حکومت کو ایرانی گروپ کی حمایت کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کے بعد بیروت میں دھماکوں کے بعد خیال کیا گیا کہ شاید دھماکوں میں اسرائیل ملوث ہو تاہم اسرائیلی حکومت نے ایسے الزامات کو مسترد کردیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی حکام نے دھماکوں کے فوری بعد مشترکہ طور پر کہا کہ بیروت دھماکوں میں اسرائیل ملوث نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دھماکوں کے بعد اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ دھماکوں میں اسرائیلی ہاتھ نہیں ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ گابی اشکنازی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیروت دھماکوں میں اسرائیل کا ہاتھ نہیں ہے۔

دھماکوں کی آوازیں اسرائیلی شہر قبرض تک سنی گئیں—فوٹو: اے پی
دھماکوں کی آوازیں اسرائیلی شہر قبرض تک سنی گئیں—فوٹو: اے پی

لبنانی نشریاتی ادارے نہار نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل نے دھماکوں میں ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے لبنانی حکومت کو مدد کی پیش کش کی ہے۔

دھماکوں کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع اور سابق آرمی چیف بینی گینٹز اور وزیر خارجہ گابی اشکنازی نے لبنانی حکومت سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انسانی وسائل سمیت تکنیکی مدد کی پیش کش کی۔

اگرچہ اسرائیلی حکومت نے بیروت دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم اس کے باوجود لبنانی سوشل میڈیا پر کئی افراد اور خصوصی طور پر حزب اللہ کے حمایتی دھماکوں کے الزامات اسرائیل پر لگا رہے ہیں۔

دھماکوں سے بیروت کی کئی کلو میٹرز پر پھیلی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا—فوٹو: رائٹرز
دھماکوں سے بیروت کی کئی کلو میٹرز پر پھیلی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا—فوٹو: رائٹرز