الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے 23 بینک کھاتوں کی تفصیلات اکبر ایس بابر کو فراہم کرنے سے انکار

اپ ڈیٹ 09 اگست 2020

ای میل

اکبر ایس بابر مستقل 23 بینک کھاتوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی
اکبر ایس بابر مستقل 23 بینک کھاتوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی اسکروٹنی کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 23 بینک کھاتوں کی تفصیلات پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اکبر ایس بابر کے راستے پارٹی سے جدا ہو گئے ہیں اور انہوں نے نومبر 2014 میں پارٹی پر بیرون ملک جعلی بینک اکاؤنٹس برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ خود کرے، اکبر ایس بابر

پی ٹی آئی کے بینک کھاتوں کی جانچ پڑتال کے لیے اسکروٹنی کمیٹی مارچ 2018 میں تشکیل دی گئی تھی۔

ان اکاؤنٹس میں متعدد غیر اعلانیہ اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، جن کا انکشاف اس وقت ہوا تھا جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی ہدایت پر کچھ بینکوں نے جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے زیر انتظام اکاؤنٹس کی تفصیلات ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی نے جمعرات اور جمعہ کو لگاتار دو دن اجلاس کیا جہاں درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے جانچ پڑتال کے عمل کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھائے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ای سی پی کمیٹی نے درخواست گزار کے ساتھ پی ٹی آئی کے بینک کھاتوں کی تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کو 17 اگست تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

درخواست گزار 23 بینک اکاؤنٹس تک رسائی کا کئی عرصے سے مطالبہ کرتے آرہے ہیں تاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکاؤنٹس کی تصدیق کی جا سکے جہاں درخواست گزار کا الزام ہے کہ وہ اکاؤنٹس جعلی ہیں۔

اکبر ایس بابر مستقل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے 23 بینک اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود پارٹی کے اکاؤنٹس ای سی پی سے پوشیدہ ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کی کوئی ساکھ نہیں ہوگی۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ درخواست گزار کے وکیل نے جانچ پڑتال کے عمل سے متعلق تحفظات پر تفصیل سے بات کی تھی، ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے توثیق شدہ دستاویزات کی جانچ کے بغیر غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال محض دھوکا ہے۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کردیا

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وکیل نے تفصیلی اکاؤنٹ پیش کرنے کے اپنے ارادے کا عندیہ دیا کہ جانچ کی کارروائی ٹی او آر کے تقاضوں کو کیوں پورا نہیں کرتی اور درخواست گزار سے توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ مبینہ جعلی دستاویزات پر مہر لگا دے۔

پی ٹی آئی کے کھاتوں کی جانچ پڑتال مکمل کرنے کے لیے الیکشن کی جانب سے کمیٹی کے لیے مقرر کی گئی 17 اگست کی آخری تاریخ میں 10 دن باقی ہیں تاہم کمیٹی کا 13 اگست کو دوبارہ اجلاس ہونا ہے اس وقت بہت کم پیشرفت کی توقع کی جارہی ہے۔

درخواست گزار کی نمائندگی ان کی وکیل کی ٹیم نے کی جس میں سید احمد حسن شان، بدر اقبال چوہدری اور داؤد ابراہیم شامل تھے جبکہ پی ٹی آئی کی نمائندگی سید خاور شاہ اور پارٹی کی فنانس ٹیم نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ نومبر 2015 سے تحریک انصاف اپنے تمام اکاؤنٹ ای سی پی کے سامنے جمع کروانے سے انکاری ہے، انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹس کے ایک سادہ آڈٹ میں دو سال کا عرصہ کیسے لگ سکتا ہے اور اس کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور یہ بات عقل سے بالاتر ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے کو اختتام تک آگے بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام حقائق جاننے کے مستحق ہیں۔


یہ خبر 9اگست 2020 بروز اتوار ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔