کرنٹ سے نوجوان کی ہلاکت: کے الیکٹرک کے سی ای او، دیگر عہدیداران پر مقدمہ

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نوجوان کی کرنٹ لگنے سے ہلاکت پر کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) سمیت دیگر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

جاں بحق ہونے والے 19 سالہ فیضان کے انکل محمد فیاض کی شکایت پر ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

مزید پڑھیں: کرنٹ سے ہلاکتوں کے مقدمے میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے، چیف جسٹس

ایف آئی آر کے مطابق فیضان تصویر بنا رہا کہ اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

ایف آئی آر کے مطابق فیاض نے بتایا کہ متوفی فیضان خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کا رہائشی تھا جو 10 اگست کو بذریعہ روڈ کراچی پہنچا تھا اور قیوم آباد سے متصل علاقے میں اپنے انکل کی رہائش گاہ پر رات گزاری۔

انہوں نے بتایا کہ 11 اگست کی صبح فیضان گھر کے بچوں کے ہمراہ چہل قدمی کے لیے نکلا تو کسی نے اطلاع دی کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز 7 ایکسٹینشن میں واقع کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں کرنٹ کی وجہ سے فیضان جاں بحق ہوگیا۔

متوفی کے انکل نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ فیضان کی لاش سب اسٹیشن کے پاس تھی اور جب فیضان کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا تو ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی۔

یہ بھی پڑھیں: کے-الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں کا جینا اجیرن کردیا ہے، رکن ایم کیو ایم پاکستان

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نوجوان کی موت کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی، ڈسٹری بیوشن کے سربراہ عامر ضیا، سینئر سیکیورٹی افسر ڈیفنس آئی بی سی فہیم اور اسسٹنٹ منیجر ڈیفنس اویس کی 'لاپرواہی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق غفلت' کی وجہ ہوئی ہے۔

ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔

خیال رہے مذکورہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی جب چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے لوگوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کے الیکٹرک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ شہر میں کرنٹ لگنے سے جتنی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں، سب کے مقدمے میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے اور ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا جائے جبکہ کے الیکٹرک کا تفصیلی آڈٹ کروایا جائے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شہر قائد میں لوڈشیڈنگ، کرنٹ لگنے سے لوگوں کی اموات سمیت دیگر اہم معاملات پر سماعت کی، جہاں چیئرمین نیپرا اور کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی سمیت دیگر حکام پیش ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: کے الیکٹرک پر اربوں کا جرمانہ کریں، یہ کھربوں کما رہے ہیں، عدالت

دوران سماعت شہر قائد میں کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے پر عدالت نے کہا تھا کہ جتنی بھی ہلاکتیں ہوئیں سب کے مقدمے میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے۔

کراچی میں بارش کے دوران پچھلے ڈیڑھ مہینے میں کرنٹ لگنے سے کم از کم 20 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

گزشتہ ماہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کرنٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کا 'سنجیدہ نوٹس' لیا تھا اور عوام کو اس سلسلے میں ثبوت پیش کرنے کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ کراچی میں حالیہ مون سون کے چوتھے اسپیل کی پہلی بارش میں کرنٹ لگنے سے 5 شہری، دوسرے دن 8 افراد اور تیسرے دن بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔