سبسڈی منصوبے کی ناکامی کی ذمہ داری وفاق نے پنجاب پر عائد کردی

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی غذائی تحفظ عامر سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ کھاد سبسڈی اسکیم میں کوئی خرابی نہیں۔ فائل فوٹو:ڈان
پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی غذائی تحفظ عامر سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ کھاد سبسڈی اسکیم میں کوئی خرابی نہیں۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق عامر سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ کھاد سبسڈی اسکیم میں کوئی خرابی نہیں تاہم انہوں نے اپنی ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کو اس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عامر سلطان نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مطلوبہ رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں کی جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو اربوں روپے کی سبسڈی کا فائدہ نہیں مل سکا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ پی ٹی آئی ممبران کی جانب سے 'کسانوں کو کھاد اور بیج پر سبسڈی منتقل نہ ہونے' کے بارے میں نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکریٹری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ 'ٹوکن اسکیم میں کوئی تکنیکی غلطی نہیں ہے، یہ ناکام رہی کیونکہ حکومت پنجاب نے مطلوبہ رقم اکاؤنٹ میں جمع نہیں کی تھی، جس کی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی'۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے 100 ارب روپے کے زرعی پیکج کی منظوری دے دی

وہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں کی طرف سے کی جانے والی تنقید کا جواب دے رہے تھے جنہوں نے شکایت کی تھی کہ کاشتکاروں کو بھاری سبسڈی کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا جس کا حکومت نے ان سے اعلان کیا تھا کہ وہ بینکوں سے ٹوکن یا اسکریچ کارڈ دکھا کر ڈی اے پی کھاد کے خریدے ہوئے تھیلے پر ان سے سبسڈی کی رقم حاصل کریں۔

سیکریٹری نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کا موضوع ہے، وفاقی حکومت نے کسانوں کے لیے کھاد پر دی جانے والی سبسڈی کے لیے 37 ارب روپے مختص کیے ہیں اور وہ خود ہی اس کی تقسیم پر نظر رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ڈی اے پی کھاد بیگ کے لیے 925 روپے سبسڈی ملے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پوری رقم بینک اکاؤنٹس میں جمع کروائے گی اور اس اُمید کا اظہار کیا کہ آئندہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عامر سلطان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اس مجوزہ اسکیمز کو مسترد کر دیا ہے جو پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے جمع کروائی ہیں کیونکہ تمام صوبوں نے سبسڈی کی تقسیم کے لیے اپنا الگ طریقہ کار تجویز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ای سی سی سبسڈی کی رقم کی تقسیم کے لیے یکساں نظام رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ نے اس ضمن میں کوئی تجویز پیش نہیں کی۔

خریف کی فصلوں کے لیے کوئی سبسڈی نہیں

پارلیمانی سیکریٹری نے یہ انکشاف بھی کیا کہ صوبوں نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ آنے والی خریف کی فصلوں کے لیے کھاد پر دی جانے والی سبسڈی کی پیش کش نہیں کریں گے اور یہ صرف ربیع کی فصلوں کے لیے دستیاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بائیو کھاد کی تیاری میں ٹڈیوں کا استعمال کرنے پر غور

عامر سلطان نے اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے کھاد کمپنیوں اور درآمد کنندگان سے خریداری کے وقت قیمت کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ انہیں صوبائی حکومتوں پر اعتماد نہیں ہے جس نے ابھی تک 48 کروڑ روپے ادا نہیں کیے ہیں جو گزشتہ چار سے پانچ سالوں کے دوران کے بقایاجات میں سے ہے۔

قبل ازیں نوٹس دیے جانے کے وقت سردار طالب ناکئی نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے ماضی میں جو سبسڈی کا اعلان کیا تھا وہ ضائع ہوچکا ہے کیونکہ کاشتکاروں کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا صرف چند کسان خوش قسمت تھے جنہوں نے ٹوکن کے ذریعے 300 سے 800 روپے وصول کیے اور انہیں وہ تھیلے کے ساتھ لاٹری کے طور پر ملے۔