پاکستان کا امریکا پر بھارت سے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے پر زور

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

سیکریٹری خارجہ سہیل محمود—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
سیکریٹری خارجہ سہیل محمود—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کرے۔

یہ مطالبہ سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور امریکا کے انڈر سیکریٹری برائے سیاسی امور سفیر ڈیوڈ ہیل کے درمیان ورچوئل مشاورت کے درمیان کیا گیا۔

دوران گفتگو سہیل محمود کا کہنا تھا کہ 'کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور جموں اور کشمیر تنازع کے پرامن حل میں سہولت کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے'۔

مزید پڑھیں: امریکی رپورٹ میں پاک-بھارت مذاکرات کے امکانات کا جائزہ پیش

خیال رہے کہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دہلی جانب سے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہوا تھا۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ 'بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے اور پاکستان کے خلاف اس کا جارحانہ رویہ امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے'۔

ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے غیرقانون تسلط میں موجود جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیو، مقبوضہ وادی کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔

مزید برآں دونوں شخصیات نے افغان امن عمل سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر خود حل کرسکتے ہیں، امریکی صدر

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے کہ افغان قیادت میں افغان عمل کے لیے پاکستان کی مستقبل حمایت کا عزم دوہرایا اور امید ظاہر کی کہ افغان فریقین اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور بین الافغان مذاکرات کے ذریعے ایک جامع سیاسی حل تلاش کریں گے۔

علاوہ ازیں سیکریٹری خارہ نے پاکستان کی امریکا کے ساتھ 'مضبوط اور باہمی فائدہ مند معاشی شراکت داری قائم کرنے' کی خواہش کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع البنیاد اور پائیدار شراکت داری جس کا تصور وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات میں آیا تھا خطےمیں اسحتکام کا عنصر ہے۔


یہ خبر 12 اگست 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی