صبا قمر اور بلال سعید کا 'قبول' لوگوں کو بھا گیا

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

گانے کو ابتدائی چند گھنٹوں میں 2 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا—اسکرین شاٹ
گانے کو ابتدائی چند گھنٹوں میں 2 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا—اسکرین شاٹ

گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کا ایک ساتھ پہلا ویڈیو گانا 'قبول' ریلیز ہوتے ہی لوگوں میں مقبول ہوگیا اور چند ہی گھنٹوں میں اسے 2 لاکھ کے قریب بار دیکھا گیا۔

'قبول ہے' کی شاعری بھی بلال سعید نے ہی لکھی ہے جب کہ اس کی موسیقی بھی خود انہوں نے ہی ترتیب دی ہے۔

'قبول' کے ذریعے صبا قمر نے میوزک گانوں کی ہدایت کاری میں بھی قدم رکھا ہے، اس سے قبل وہ اپنے یوٹیوب چینلز پر مختصر ڈراموں کی ہدایات بھی دیتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلال سعید اور صبا قمر نے مسجد میں ویڈیو شوٹ کرنے پر معافی مانگ لی

گانے کو سرسبز علاقوں اور پرانی عمارتوں کے درمیان فلمایا گیا ہے جب کہ گانے میں صبا قمر اور بلال سعید کو ایک دوسری کی محبت میں گرفتار دکھایا گیا ہے۔

گانے کی ریلیز سے قبل دونوں پر تنقید بھی کی گئی تھی—فوٹو: انسٹاگرام
گانے کی ریلیز سے قبل دونوں پر تنقید بھی کی گئی تھی—فوٹو: انسٹاگرام

دلچسپ بات یہ ہے کہ 'قبول ہے' گانا اردو کے بجائے پنجابی زبان میں ہے اور اسے پنجاب میں ہی فلمایا گیا ہے۔

گانے کی ریلیز سے قبل ہی گانے کے چرچے تھے جب کہ بلال سعید اور صبا قمر کی جانب سے چند دن قبل گانے کا ٹیزر جاری کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ہنگامہ شروع ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: لاہور: میوزک ویڈیو کی شوٹنگ پر تاریخی مسجد کے منیجر معطل

سوشل میڈیا پر ان کے ٹیزر کی ویڈیو سے ایک مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس میں دونوں کے لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں نکاح کے بعد فوٹوشوٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

گانے کی ہدایات صبا قمر نے دی ہے—فوٹو: انسٹاگرام
گانے کی ہدایات صبا قمر نے دی ہے—فوٹو: انسٹاگرام

تاہم کئی سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ سین کے درمیان دونوں نے رقص کیا اور پس منظر میں موسیقی چلائی گئی لیکن صبا قمر اور بلال سعید نے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا تھا۔

دونوں نے وضاحت کی تھی کہ انہوں نے نہ تو مسجد میں رقص کیا اور نہ ہی انہوں نے مسجد میں فلمائے گئے سین کے پس منظر میں موسیقی چلائی۔

یہ بھی پڑھیں: بلال سعید نے صبا قمر کے ساتھ 'قبول ہے' سے پردہ اٹھا دیا

تاہم اس کے باوجود ان پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا، جس پر بلآخر دونوں نے معافی مانگتے ہوئے مذکورہ منظر کو گانے سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

جاری کیے گئے گانے میں مسجد وزیر خان کا کوئی بھی منظر نہیں ہے تاہم گانے میں دیگر تاریخی عمارتوں کو دکھایا گیا ہے۔