لاہور: میوزک ویڈیو کی شوٹنگ پر تاریخی مسجد کے منیجر معطل

اپ ڈیٹ 10 اگست 2020

ای میل

ایک نیوز رپورٹ کے مطابق میوزک ویڈیو کی شوٹنگ مسجد کے مرکزی حصے میں ہوئی — فائل فوٹو: فارقوق سومرو
ایک نیوز رپورٹ کے مطابق میوزک ویڈیو کی شوٹنگ مسجد کے مرکزی حصے میں ہوئی — فائل فوٹو: فارقوق سومرو

لاہور: وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے مسجد کے احاطے میں میوزک ویڈیو کی شوٹنگ اور متعلقہ وزیر اور محکمے کے سیکریٹری کی جانب سے رپورٹ طلب کرنے کے بعد محکمہ اوقاف پنجاب نے تاریخی مسجد وزیر خان کے منیجر کو معطل کردیا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 'مسجد ایک مقدس ترین مقام ہے اور کسی کو بھی اس کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی'۔

کسی بھی صورت میں مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے حکم دیا کہ معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور اس کے ذمہ داران کی شناخت کی جائے۔

خیال رہے کہ تاریخی مسجد میں ویڈیو شوٹ کرنے پر اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: بلال سعید نے صبا قمر کے ساتھ 'قبول ہے' سے پردہ اٹھا دیا

چند روز قبل ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صبا قمر کا نام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی کررہا تھا۔

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیاسی حلیف اور علما کی جانب سے حکومت پنجاب پر کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

دوسری جانب صبا قمر نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا تھا اور تنقید کو مسترد کیا تھا، انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ میوزک ویڈیو کے لیے مسجد میں نکاح کا سین شوٹ کیا گیا تھا، جو کسی قسم کے پلے بیک میوزک کے ساتھ شوٹ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اسے میوزک ٹریک کے ساتھ ایڈٹ کیا گیا۔

صبا قمر اور بلال سعید نئے گانے 'قبول ہے' کی ویڈیو پر کام کررہے ہیں اور اداکارہ اس گانے کی ہدایات بھی دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: شاہی قلعے میں شادی کی تقریب پر کمپنی کے خلاف مقدمہ درج

ایک اور ٹوئٹ میں صبا قمر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش بی ٹی ایس ویڈیو 'قبول ہے' کہ پوسٹر کے لیے ایک کلک تھا جس میں ایک شادی شدہ جوڑے کو نکاح کے بعد خوش دکھایا گیا تھا۔

ایک نیوز رپورٹ کے مطابق میوزک ویڈیو کی شوٹنگ مسجد کے مرکزی حصے میں ہوئی۔

محکمہ اوقاف کے عہدیدار نے کہا کہ مسجد کی تاریخ کی وجہ سے لوگ وہاں نکاح کے لیے آتے ہیں، اس لیے نکاح کے شوٹ کی اجازت دی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ واقعے پر مسجد کے جس منیجر کو معطل کیا گیا ان کا نام اشتیاق احمد تھا۔


یہ خبر 10 اگست، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی