توشہ خانہ ریفرنس: زرداری کی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020

ای میل

توشہ خانہ ریفرنس کی آئندہ سماعت 17 اگست کو مقرر کی گئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
توشہ خانہ ریفرنس کی آئندہ سماعت 17 اگست کو مقرر کی گئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے احتساب عدالت سے درخواست کی ہے کورونا وائرس کے پیشِ نظر ان کی ضعیف العمری اور بیماری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت میں پیشی کے لیے ویڈیو لنک کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت میں دائر ایک درخواست میں سابق صدر نے کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں ان کے آبائی علاقے سے باہر سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے چنانچہ انہوں نے عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کے انتظامات کرنے کی درخواست کی۔

احتساب عدالت نے گزشتہ ماہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے توشہ خانہ سے تحائف اور گاڑیوں وصول کرنے کے ریفرنس کی سماعت میں غیر حاضری پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا جبکہ آصف علی زرداری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ریفرنس: آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری

قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائر کردہ اس ریفرنس کی آئندہ سماعت 17 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔

نیب ریفرنس کے مطابق سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے غیر قانونی طور پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کیں۔

اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔

بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ ریفرنس: نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری نے ستمبر، اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل 2007) اور لیبیا سے (بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کی۔

مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔

نیب ریفرنس میں الزام ہے کہ سال 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے تحت طریقہ کار میں بے ایمانی اور غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔

ریفرنس کے مطابق خواجہ انور مجید نے ایم ایس انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے آواری ٹاور کے نیشنل بینک کے ایک اکاؤنٹ سے 92 لاکھ روپے آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری توشہ خانہ کیس میں طلب

اس کے علاوہ انہوں نے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے آصف زرداری کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ 17 ہزار 557 روپے کی ادائیگی کی، ملزم نے اپنی غیر قانونی اسکیم کے سلسلے میں آصف زرداری کے ناجائز فوائد کے لیے مجموی طور پر 2 کروڑ 3 لاکھ 17 ہزار 557 روپے ادا کیے۔

دوسری جانب خواجہ عبدالغنی مجید نے آصف زرداری کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے 3 ہزار 716 ملین (371 کروڑ 60 لاکھ) روپے کی خطیر ادائیگیاں کیں۔

نیب نے ان افراد پر بدعنوانی کا جرم کرنے اور نیب قوانین کے تحت واضح کی گئیں کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہنے کا الزام لگایا اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان ملزمان پر مقدمہ چلا کر سخت ترین جیل کی سزا دی جائے۔

خیال رہے کہ نواز شریف لندن میں علاج کے لیے طبی بنیاد پر اور آصف علی زرداری ضمانت پر رہا ہیں نواز شریف کو اس کیس میں اشتہاری قرار دینے کے علاوہ ان کا اشتہار لندن میں چسپاں کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔