پومپیو کی افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف

اپ ڈیٹ 15 اگست 2020

ای میل

جشن آزادی پر انہوں نے امریکی عوام کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان کے عوام تک پہنچائئیں—فائل فوٹو: رائٹرز
جشن آزادی پر انہوں نے امریکی عوام کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان کے عوام تک پہنچائئیں—فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکی سیکریٹری مائیکل پومپیو نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود امریکا اور پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جشن آزادی کے موقع پر جاری کردہ ایک پیغام میں انہوں نے امریکی عوام کی ’مبارکباد اور نیک خواہشات پاکستان کے عوام تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال سے زائد عرصے سے پاکستان اور امریکا انتہائی اہمیت کے حامل مسائل پر اکٹھے کام کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مائیک پومپیو کا افغان طالبان سے امن عمل پر تبادلہ خیال

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رواں برس متعدد مشکلات کے باوجود ہم نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں قابل ذکر پیش رفت کی اور عالمی وبا کووِڈ 19 کے رد عمل میں صحت اور معیشت میں ہمارا تعاون زندگیاں بچا رہا ہے۔

امریکی سیکریٹری نے کہا کہ امریکا آئنہ آنے والے سالوں میں امریکی-پاکستان تجارت کو وسیع اور بنیادی آزادی کے تحفظ کے لیے مل کر کام کر کے یہ دو طرفہ شراکت داری مزید مستحکم کرنے کا منتظر ہے۔

واضح رہے افغانستان میں امریکا کی 19 سال سے جاری جنگ کو اختتام پذیر کرنے کے لیے امریکا اور طالبان کے مابین تاریخی امن معاہدہ رواں برس 29 فروری کو طے پا گیا تھا اور اب پاکستان واشنگٹن کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر عملدرآمد کروانے کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا-طالبان امن معاہدہ

خیال رہے کہ امریکا نے افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کے اختتام اور افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کے لیے طالبان کی سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے طویل دور کے بعد 29 فروری کو ایک معاہدہ کیا تھا۔

من معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کا کابل پر امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے زور

قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔

تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔

جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔

18 مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہیئیں۔

بعدازاں عید الضحیٰ کے بعد افغان صدر نے 400 خطرناک سمجھے جانے والے طالبان قیدیوں کی رہائی پر مشاورت کے لیے لویہ جرگہ منعقدکیا تھا جس میں ان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔