چین کورونا وائرس ویکسین پاکستان کو فراہم کرے گا، امریکی اخبار کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 15 اگست 2020

ای میل

چین دنیا میں 8 ویکسین کی آزمائش کے ساتھ سرفہرست ہے—فئل/فوٹو:رائٹرز
چین دنیا میں 8 ویکسین کی آزمائش کے ساتھ سرفہرست ہے—فئل/فوٹو:رائٹرز

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کورونا وائرس کے لیے چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ (سینوفارم) کی تیار کردہ ویکسین آزمائشی بنیاد پر پاکستان کو فراہم کرے گا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سرکاری کمپنی سینوفارم ویکیسن کی آزمائش کے لیے یونیورسٹی آف کراچی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:روس کورونا کے خلاف ویکسین تیار کرنے والا پہلا ملک بن گیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ویکسین اتنی تعداد میں موصول ہوگی جو آبادی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے کافی ہوگی۔

ویکسین کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی ویکسین پاکستان میں غریب علاقوں سمیت بزرگوں، طبی عملے اور کووڈ-19 سے متاثرہ تشویش ناک حالت میں موجود مریضوں میں استعمال کی جائے گی۔

قبل ازیں سینوفارم نے اپریل میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کو پاکستان میں کووڈ-19 کی ویکسین کی آزمائش کی پیش کش کی تھی۔

چائنا سینوفارم انٹرنیشنل کارپوریشن کے جنرل منیجر لی کین کی جانب سے این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام کو بھیجے گئے خط میں توقع ظاہر کی گئی تھی کامیاب آزمائش سے پاکستان ان ابتدائی چند ممالک میں شامل ہوگا جنہوں نے کووڈ-19 کی ویکسین تیار کرلی ہوگی۔

ڈاکٹر عامر اکرام نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ اس مقصد کے لیے منظوری کی ضرورت ہے لیکن یہ اشتراک پاکستان کے لیے عظیم ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس سے 70 فیصد سے زائد نوجوانوں کی تعلیم متاثر

محقیقن کا کہنا تھا کہ سینوفارم کی کورونا وائرس ویکسین محفوظ اور اینٹی باڈی کی بنیاد پر فوری مدافعت اور درمیانی مرحلے میں کارآمد ہوگی۔

ویکسین کی آزمائش حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور منظوری کے لیے کئی ہسپتالوں میں ہزاروں لوگوں پر اسے آزمایا جارہا ہے۔

سینوفارم اپنی ویکسین کی آزمائش متحدہ عرب امارات میں کر رہی ہے اور تیسرے مرحلے میں ہے جہاں 15 ہزار افراد کو تیار کرنے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جس کے باعث مؤثر آزمائش کے لیے کم مواقع ہیں۔

جرنل آف امریکین میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) میں شائع سینوفارم اور دیگر چینی اداروں سے وابستہ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق آزمائش کے دوران کسی قسم کے بداثرات کا خدشہ نہیں ہے۔

ویکسین کی آزمائش کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے نتائج 320 صحت مند بالغ افراد کے دستاویزات پر مبنی ہیں۔

سینوفارما کے چیئرمین نے گزشتہ ماہ سرکاری میڈیا کو بتایا تھا کہ مؤثر ویکسین رواں برس کے آخر تک تیار ہوسکتی ہے کیونکہ آزمائش کا تیسرا مرحلہ تقریباً 3 ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:سائنسدانوں نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے سیکڑوں ادویات کی شناخت کرلی

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی خطرناک رفتار کے باعث ویکسین کی تیاری میں بھی تیزی لائی جارہی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں 150 سے زائد ویکسین تیار کی جارہی ہیں اور ان کی آزمائش بھی ہورہی ہے۔

روس دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں دو ماہ سے بھی کم عرصے تک آزمائش کے بعد ویکسین کی سرکاری سطح پر منظوری دی جاچکی ہے اور چین کی کمپنی کین سینو بیلوگیکس کو فوجیوں میں استعمال کے لیے کلیئر قرار دیا گیا ہے۔

چین 8 ویکسین کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہے جو کلینکل آزمائش کے مختلف مراحل میں ہیں۔