نااہلی کیس میں فیصل واڈا سے 17 ستمبر تک جواب طلب

اپ ڈیٹ 21 اگست 2020

ای میل

فیصل واڈا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی—فائل/فوٹو:ڈان
فیصل واڈا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی—فائل/فوٹو:ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر آبی امور فیصل واڈا کے خلاف نااہلی کی درخواست پر ان سے 17 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی اور دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

میاں فیصل ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت میں بیرسٹر جہانگیر جدون پیش ہوئے جبکہ وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں:دوہری شہریت کا معاملہ: نااہلی کی درخواست پر فیصل واڈا سے جواب طلب

جہانگیر جدون نے کہا کہ 7 ماہ گزرنے کے باوجود فیصل واڈا کی جانب سے جواب جمع نہیں کیا گیا، جس پر عدالت نے کہا کہ کیا اخبار میں اشتہار جاری کر دیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ لوگ آئینی عدالت کو اتنا آسان کیوں لیتے ہیں، فیصل واڈا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر اختر نوید نے فیصل واڈا نااہلی کیس میں تحریری جواب جمع کرا دیا۔

ڈاکٹر اختر نوید نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں بھی فیصل واڈا کی نااہلی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل واڈا کے وکیل نے 2 جون کو الیکشن کمیشن میں زیرالتوا درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے درخواستوں پر فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ فیصل واڈا کی نااہلی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیرالتوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دوہری شہریت کا معاملہ: فیصل واڈا کی نااہلی کیلئے دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر

بیرسٹر جہانگر جدون نے کہا کہ نااہلی کیس میں عدالت نے 29 جنوری کو فیصل واڈا کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا لیکن اب تک جواب داخل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فیصل واڈا نے جواب جمع نہ کرا کے عدالت کی حکم عدولی کی ہے اس لیے استدعا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ فیصل واڈا کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے توہین عدالت کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے اور الیکشن کمیشن کا جواب جمع ہونے کے بعد فیصل واڈا کو جواب کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کیا اور سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کے خلاف دوہری شہریت چھپانے پر نااہل قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بینچ نے درخواست پر سماعت کی تھی اور وفاقی وزیر کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کردیے تھے۔

فیصل واڈا کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ وفاقی وزیر کے خلاف واضح طور پر نااہلی کا کیس بنتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ فیصل واڈا نے 11 جون 2018 کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے جنہیں ریٹرننگ افسر نے 18 جون کو منظور کیا۔

مزید پڑھیں:دوہری شہریت: الیکشن کمیشن کا فیصل واڈا کےخلاف یکطرفہ کارروائی کا عندیہ

انہوں نے کہا تھا کہ فیصل واڈا نے امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست 22 جون کو جمع کرائی لیکن کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہریت رکھتے تھے اور اس کو چھپایا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ فیصل واڈا نے غیر قانونی طور پر وزارت سنبھال رکھی ہے لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

دوہری شہریت کا معاملہ

خیال رہے کہ رواں برس کے اوائل میں ایک انگریزی اخبار 'دی نیوز' نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔

وفاقی وزیر فیصل واڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واڈا امریکی شہری تھے، رپورٹ

تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کے لیے درخواست دی تھی۔

واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کر دیتے۔

اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔