آڈیٹر جنرل پاکستان کی اپنے دفتر کے آڈٹ پر وزارت خزانہ سے چپقلش

اپ ڈیٹ 24 اگست 2020

ای میل

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صدر مملکت کے مقرر کردہ بیرونی آڈیٹر کی ٹیموں کو بار بار مسترد کردیا تھا۔ فوٹو بشکریہ اے جی پی ویب سائٹ
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صدر مملکت کے مقرر کردہ بیرونی آڈیٹر کی ٹیموں کو بار بار مسترد کردیا تھا۔ فوٹو بشکریہ اے جی پی ویب سائٹ

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) ’اپنی خود مختاری کی پامالی‘ سے بچنے کے لیے اپنے ہی دفتر کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کی مزاحمت کرتے ہوئے وزارت خزانہ سے الجھ پڑے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 170 کے تحت تشکیل دیا گیا اے جی پی ایک آئینی ادارہ ہے جو حکومت کے ہر سطح کے عوامی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا ذمہ دار ہے تاکہ عوامی رقم کے استعمال میں مخلصانہ خدشات کو ختم کیا جاسکے۔

باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اس سال جنوری کے بعد سے ملک کے اعلی آڈیٹر نے صدر پاکستان کے مقرر کردہ بیرونی آڈیٹر کی جانب سے گزشتہ تین مالی سالوں کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھیجی گئیں آڈٹ ٹیموں کو متعدد مرتبہ مسترد کردیا۔

مزید پڑھیں: وزارت خزانہ نے آڈٹ رپورٹ میں کرپشن کی خبروں کو مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا تھا کہ بیرونی آڈیٹر نے صدر، وزیر اعظم، وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور سیکریٹری خزانہ سے شکایت کی تھی کہ جنوری 2020 میں شروع ہونے والے اے جی پی کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کا عمل کبھی کسی بہانے تو کبھی کسی بہانے سے اے جی پی کے دفتر نے رکوادیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی پی نے متعدد مواقع پر قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو شکایت کی تھی کہ مختلف کارپوریشن اور سرکاری ادارے اے جی پی کو آڈٹ کی اجازت نہیں دے رہے ہیں حالانکہ بے ضابطگیوں، فنڈز کا غلط استعمال اور اور بدعنوانی سے بچنے کے لیے عوامی رقم کے ہر ایک روپے کا آڈٹ ہونا ضروری ہے۔

آڈیٹر جنرل کے (فنکشن، پاورز اور ٹرمز آف سروسز) آرڈیننس 2001 کے سیکشن 19-اے کے تحت صدر مملکت عارف علوی نے وزیر اعظم کی تجویز پر وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر ارشد محمود کو 23 مئی 2019 کو بیرونی آڈیٹر مقرر کیا تھا تاکہ اے جی پی کے کیے گئے اخراجات کا آڈٹ کرسکیں۔

بیرونی آڈیٹر نے اے جی پی دفاتر کے آڈٹ کے لیے تین علیحدہ ٹیمیں روانہ کیں اور درخواست کی کہ گزشتہ تین مالی سالوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

سیکشن 19 اے میں کہا گیا ہے کہ 'صدر آڈیٹر جنرل کے اخراجات پر آڈٹ کے لیے ایک آزاد افسر مقرر کرسکتے ہیں، اے جی پی اس سے متعلق تمام ریکارڈز اور دیگر دستاویزات معائنہ کے لیے پیش کریں گے اور اسے ایسی وہ تمام معلومات فراہم کریں گے جو اسے آڈٹ کے مقصد کے لیے درکار ہو'۔

تاہم اے جی پی نے ابتدائی طور پر وزارت خزانہ کی صلاحیت اور مفادات کے تصادم کی بنیاد پر آڈٹ کو مسترد کردیا تھا اور پھر اس نے 'آڈٹ کے دائرہ کار' پر اعتراض کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آڈیٹر جنرل پاکستان کا وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کی بےضابطگیوں، غبن کا انکشاف

اے جی پی کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ وزارت خزانہ اور قانون 'خود مختار آڈیٹر کی تشریح غلط کر رہے ہیں کیونکہ آڈیٹر وزارت خزانہ سے آرہا ہے'۔

وزارت خزانہ نے قانونی رائے اور وضاحت کے لیے معاملہ وزارت قانون کے سامنے اٹھایا۔

وزارت قانون نے واضح کیا کہ 'اے جی پی کے آرڈیننس 2001 کی دفعہ 19-اے اس سلسلے میں واضح نہیں ہے اور اس کا اطلاق اس کی اصل روح کے مطابق ہوسکتا ہے'۔

اے جی پی اس سے متفق نہیں ہوئے اور اس وقت تک آڈٹ شروع کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک کہ اس کی نوعیت اور دائرہ کار مشترکہ طور پر قانون اور وزارت خزانہ کے ساتھ ساتھ اے جی پی کے ذریعے حل نہیں ہوتے۔