'وفاق و حکومت سندھ کا 1100 ارب روپے مختص کرنا کراچی کی ترقی کیلئے اچھا آغاز ہے'

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2020

ای میل

موجودہ  حالات میں بلاتفریق امداد اور بحالی کے لیے قومی پالیسی بنانے کی ضروت ہے، بلاول بھٹو زرداری — فائل فوٹو / ڈان نیوز
موجودہ حالات میں بلاتفریق امداد اور بحالی کے لیے قومی پالیسی بنانے کی ضروت ہے، بلاول بھٹو زرداری — فائل فوٹو / ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 300 ارب اور حکومت سندھ کی جانب سے 800 ارب روپے سے زائد رقم مختص کیے جانے کو شہرِ قائد کی ترقی کے لیے اچھا آغاز قرار دیا ہے۔

کراچی میں سیلاب سے متاثرہ ضلع غربی کے علاقوں کے دورے کے دوران متاثرین و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور چاول، کپاس اور گنے سمیت کھڑی مختلف فصلیں برباد ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جبکہ میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، بدین، ٹنڈو محمد خان، عمرکوٹ، تھرپارکر اور دیگر اضلاع میں بھی عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں بلاتفریق امداد اور بحالی کے لیے قومی پالیسی بنانے کی ضروت ہے۔

انہوں نے کراچی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 300 ارب اور حکومت سندھ کی جانب سے 800 ارب روپے سے زائد رقم مختص کیے جانے کو شہر قائد کی ترقی کے لیے اچھا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ریلیف اور بحالی کے لیے ضروریات بہت زیادہ ہیں اور سندھ، وفاق کی جانب دیکھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا کراچی کیلئے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد اسی انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے جس طرح 2010 اور 2011 میں صدر آصف علی زرداری نے قدرتی آفات کے دوران عوام کا خیال رکھا تھا جبکہ وطن کارڈز اور پاکستان کارڈز کے اجرا کے ذریعے متاثرین کی بلاتفریق امداد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں تعاون کریں گی۔

کراچی کے خصوصی دورے کے موقع پر شہر کے لیے اقدامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس کی سربراہی کے بعد وزیراعظم نے سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل اور وزیراعلٰی مراد علی شاہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے اور اسی طرح ٹڈی دل کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا گیا اور اب بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں جہاں سیلابی صورتحال ہے اس سے اسی طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: 'صوبائی حکومت کے منصوبوں میں وفاق ساتھ دے تو کراچی میں انقلاب لاسکتے ہیں'

ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث کراچی میں پیدا ہونے والے مسائل کے سبب فیصلہ کیا گیا کہ دیگر تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جتنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے اس میں ہماری کوشش ہے کہ ایک سال کے عرصے میں پہلا مرحلہ جبکہ 3 سال میں دیگر تمام مراحل مکمل کرلیے جائیں۔

وزیراعظم نےعلان کیا کہ اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے اس کی نگرانی پرووِنشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلمینٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی) کرے گی۔