’ہمارا گھر، گھر سے زیادہ دفتر یا درسگاہ لگنے لگا ہے‘

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2020

ای میل

پچھلے 6 مہینے سے ہمارا گھر، گھر کم اور دفتر اور درس گاہ زیادہ بنا ہوا ہے۔

ڈرائنگ روم میں صاحبزادے کی کالج کی آن لائن کلاسیں چل رہی ہیں تو بیڈ روم میں بیٹی کے اسکول کی۔ اسٹڈی روم میں شوہر صاحب کے دفتر کی میٹنگ جاری ہے تو ڈائننگ روم میں ہماری یونیورسٹی کے امتحانات۔ رہے گھر کے بزرگ تو وہ الگ موبائل پر، پردیس میں بیٹھے بھیا، بہنا اور دیگر رشتے داروں سے حال احوال میں مصروف ہیں۔ اور جو نونہال ابھی فکرِ معاش اور پڑھنے پڑھانے کے جنجال سے دُور ہیں، ان کا زیادہ تر وقت آن لائن گیمز کھیلنے اور اپنے من پسند پروگرام دیکھنے میں صرف ہو رہا ہے۔

دسمبر 2019ء میں جب کورونا وائرس کے مریض پہلی مرتبہ چین سے منظرِ عام پر آنا شروع ہوئے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سلسلہ چین سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ فروری 2020 تک اس وبا نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا، بشمول پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مارچ میں کورونا کے بڑھتے مریضوں کے پیش نظر پہلے سندھ بھر میں تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا اور مئی تک بتدریج سارے ملک میں دفاتر، شادی ہالز، تفریح گاہیں، پارک، سنیما، عبادت گاہیں اور بازار سمیت بیشتر عوامی مقامات کو کہیں جزوی اور کہیں مکمل طور پر بند کردیا گیا۔ گو بظاہر رواں مہینے میں حالات قدرے بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں اور اگست 2020ء سے مرحلہ وار دفاتر، بازار اور دیگر عوامی مقامات کھلنا شروع ہوگئے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ افواہیں مسلسل گردش کررہی تھیں کہ شاید تعلیمی ادارے اس سال کے آخر تک نہیں کھل سکیں، مگر کل ایک اچھی خبر یہ ملی کہ ستمبر میں مرحلہ وار تمام تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

میں نے جو اوپر اپنے گھر کی کہانی لکھی، یہ محض کسی ایک گھر کی منظر کشی نہیں بلکہ گزشتہ 6 مہینے سے ہر گھر سے کچھ اسی طرح کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔ اس حوالے سے جب مختلف لوگوں کی آراء لی گئی تو دلچسپ حقائق سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 'کورونا نے ہمارے گلتے سڑتے تعلیمی نظام کو تو جیسے چکنا چور کردیا'

ثناء انور جو ایک مصورہ اور ماہرِ نفسیات ہیں، ان کے بقول کورونا نے مختلف لوگوں کو مختلف طریقے سے متاثر کیا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو کورونا کے خوف میں اس قدر مبتلا ہوئے کہ ان کے معمولاتِ زندگی تقریباً مفلوج ہوکر رہ گئے۔ ان میں اکثریت عمر رسیدہ افراد، گھریلو خواتین اور کورونا سے متاثر مریضوں اور اس سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی ہے۔ اس جان لیوا بیماری سے لڑتے ہوئے قیدِ تنہائی کے شکار ان افراد میں یاسیت، بے چینی اور ذہنی خلفشار کا پایا جانا فطری عمل ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد راستہ بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہے۔

وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ دوسری طرف ایسے 'خودکش بمبار' بھی ہیں جن کے نزدیک کورونا محض ایک خیال خام، وہم اور غیر ملکی میڈیا کی سازش ہے، اس لیے وہ اپنے اندھے عقیدے کے سہارے احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ کر اپنی اور دوسروں کی زندگی داؤ پر لگائے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی لاعلمی ان کے لیے نعمت اور آس پاس والوں کے لیے کڑی آزمائش ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پسند لوگوں کی واضح اکثریت ہے جو بعد از کورونا دنیا میں، ماسک، سینیٹائزر اور مناسب فاصلوں کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ رہے ہیں اور آن لائن کام، تعلیم، خریداری اور ملاقات کو نیو نارمل زندگی کے جز گردانتے ہیں۔

شہیرالدین، جو ایک مقامی کمپنی میں میڈیا پلاننگ اور اشتہارات کی نشرو اشاعت کے شعبے سے منسلک ہیں ان کے نزدیک کورونا کے دوران گھر سے کام کرنا ایک تکلیف دہ تجربہ رہا جس میں پیشہ ورانہ و ذاتی زندگی میں توازن برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ خصوصاً تب، جب کمپنی انتظامیہ کارپوریٹ کلچر کی پروردہ ہو اور اپنے ملازمین سے کام لیتے ہوئے رات اور دن کی تفریق ہی نہ رکھے۔ ایسے میں بیماری کے بہانے چھٹیاں کرنے، ناقص کارکردگی اور ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان مقررہ مدت میں اہداف حاصل کرنے کے حوالے سے کشمکش و ذہنی دباؤ معمول کی بات ہے۔

درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ خرم شیخ طلبہ کے ساتھ براہِ راست تعلق اور ابلاغ کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آن لائن کلاسوں میں وقت اور جگہ کے فاصلوں کے ساتھ پڑھنا اور پڑھانا ایک صبر آزما اور دشوار کام ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مختلف النوع کی ورچؤل ایجادات نے اس مشکل کو قدرے آسان کردیا ہے۔ لیکن پاکستان کے حوالے سے صورتحال اس لیے اچھی نہیں کیونکہ یہاں لوڈشیڈنگ معمول کی بات ہے اور اچھا نیٹ ورک ناپید ہے، لہٰذا اس مسئلہ کا بہتر حل آن لائن اور آف لائن طرزِ تعلیم کا متوازن اور مشترکہ استعمال ہے۔

یونیورسٹی میں بیچلرز کرنے کے ساتھ ساتھ جز وقتی نوکری کرنے والی ہانیہ اور بسمہ لاک ڈاون کو ایک نعمت قرار دیتی ہیں جس کی بدولت انہیں اپنی برق رفتار زندگی میں سکون کے چند لمحے میسر آئے اور وہ پڑھنے اور کمانے کے علاوہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ معیاری وقت گزار پائیں۔

مزید پڑھیے: کیا ان حالات میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنا ٹھیک ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین اور مردوں کی اکثریت نے برملا اظہار کیا کہ کورونا کی وبا اور اس سے جڑے خطرے کے باوجود، لاک ڈاون نے انہیں وہ وقفہ دیا، جس کی انہیں شدید ضرورت تھی۔ ہاں لیکن جب گھر میں رہنے کی مدت طویل ہوئی تو مسلسل گھر میں رہنا قید جیسا محسوس ہونے لگا اور دوستوں کی محفلیں، ہم کاروں کی شوخیاں، میل ملاپ اور سیر و تفریح کو دل تڑپنے لگا۔

نورین شمس، جو پیشے کے حوالے سے صحافی ہیں، لاک ڈاون کو سزا سمجھتی ہیں۔ ان کے بقول صبح سویرے تیار ہوکر حصولِ علم اور معاش کے لیے نکلنا کسی نعمت سے کم نہیں۔

جبکہ سارہ حیدر، جو فری لانس جرنلسٹ ہیں ان کے نزدیک لمبے عرصے تک گھر سے کام کرنے سے پیسوں، وقت اور وسائل کی بچت تو ہوئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ کام کا شوق و ذوق کم ہوتا گیا اور زندگی کا پہیہ گویا تھم سا گیا یے۔ نیز اکثر گھروں میں جہاں اہلِ خانہ کی تعداد زیادہ ہو وہاں سکون اور یکسوئی سے پیشہ ورانہ ذمے داریاں نبھانا ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ عزیز و رشتے دار، دوست احباب اور ہم کاروں کی محافل ہمارے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہیں تاہم کئی مرتبہ زندگی کی دوڑ میں بھاگتے اور ساتھ نبھاتے، ہم زندہ رہنا اور خود سے ملنا بھول جاتے ہیں۔ فکرِ معاش میں اپنے بجوں کا بچپن، شریکِ حیات کا ساتھ اور والدین کا بڑھاپا کھو دینا عام بات ہے۔ اس لیے پیشے اور مقام کی چاہ میں سکونِ قلب اور روح کی قربانی گھاٹے کا سودا نہیں تو اور کیا ہے؟

لیکن ایک طرف کئی لوگوں کی یہ پریشانی ہے کہ گھر سے بیٹھ کر نوکری کرنا یا کاروبار چلانا مشکل ہے، اور اس حوالے سے وہ بہت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، لیکن اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ایسے افراد کی تعداد بھی بہت تیزی کے ساتھ بڑھ چکی جن کا روزگار ختم ہوگیا، جن کا کاروبار بند ہوگیا، جو پہلے خوشگوار زندگی گزارتے تھے، وہ اب دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہوگئے، جو پہلے صدقات و خیرات بانٹا کرتے تھے، وہ اب لینے پر مجبور ہوگئے۔

مزید پڑھیے: موجودہ نظامِ تعلیم یا ہوم اسکولنگ؟

اس حوالے سے نفسیات کی طالبہ فاطمتہ الزہرہ کہتی ہیں کہ کورونا کے نتیجے میں ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے، اور غیر یقینی معاشی و معاشرتی صورتحال میں مایوسی اور نفسیاتی مسائل کا جنم فطری عمل ہے، ایسے میں آن لائن سپورٹ گروپوں کا سہارا غنیمت ہے۔

اس لیے اب ہمیں ایک بار پھر اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ آج کی دنیا، ماضی سے یکسر مختلف ہے، اور اگر ہمیں اس دنیا میں جینا ہے تو خود کو بدلتے وقت کے قالب میں ڈھالنا ہماری بقا کی واحد ضمانت ہے۔