کراچی سرکلر ریلوے کی ملکیت پر وفاق اور سندھ کے درمیان تنازع

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2020
—فائل فوٹو: بلدیہ کراچی
—فائل فوٹو: بلدیہ کراچی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ (کے ٹی پی) کے تحت 1113 ارب روپے کے اعلان کے بعد وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے درمیان 300 ارب روپے کے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی ملکیت پر تنازع طول پکڑ گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن (پی سی) نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کے ٹی پی کے تحت 736 ارب روپے کی اضافی لاگت سے منصوبے انجام دیے ہیں اور تصفیہ فنڈ کے تحت بحریہ ٹاؤن سے 125 ارب روپے ملنا متوقع ہیں جسے منصوبے پر لگایا جائے گا۔

کمیشن نے 300 ارب روپے کے 'کے سی آر' سمیت 5 منصوبوں کی تفصیلات بھی جاری کردیں۔

مزیدپڑھیں: کراچی کیلئے 1113 ارب روپے کا پیکج: 62 فیصد وفاق اور 38 فیصد حصہ صوبے کا ہوگا، اسد عمر

اس کے علاوہ حکومت سندھ نے اپنے 802 ارب روپے کے پورٹ فولیو میں کے سی آر منصوبہ ظاہر کیا ہے جو کے ٹی پی کا ہی حصہ ہے۔

جس میں 50 ارب 80 کروڑ روپے صوبائی شیئر ہوگا جبکہ باقی 249 ارب روپے چین سے قرض لیا جائے گا۔

ریاستی اور صوبائی کے دعوؤں اور ایک مرتبہ کے سی آر کی رقم کو ملانے کے بعد مجموعی رقم ایک کھرب 23 ارب اور 38 کروڑ روپے بنتی ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ برساتی نالوں سے متعلق منصوبے بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور حکومت سندھ نے دومرتبہ اپنے پورٹ فولیو میں شامل کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ، بلاول بھٹو کراچی پیکج کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، شبلی فراز

پلاننگ کمیشن کے تحت 'گریٹر کراچی واٹر سپلائی پروجیکٹ (کے فور) کے لیے 46 ارب روپے، ریلوے فریٹ کوریڈور کے لیے 131 ارب روپے، گرین لائن بی آر ٹی کے لیے 5 ارب روپے اور ندی، نالوں اور سیلابی نالوں کی بحالی اور متاثرہ لوگوں کی آبادکاری سے متعلق 'امبریلا' منصوبے کے لیے 254 ارب روپے کی اضافی فنڈنگ بھی دی گئی ہے۔

پلاننگ کمیشن کے حکام نے بتایا کہ 254 ارب ڈالر کے 'امبریلا' منصوبے کو این ڈی ایم اے نافذ کرے گا اور اس کی تفصیلات ابھی کمیشن کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔

پلاننگ کمیشن نے کہا کہ 'ان منصوبوں کی کل لاگت کا تخمینہ 736 ارب روپے ہے، مزید یہ کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والی تصفیے کی رقم 125 ارب روپے بھی کے ٹی پی کی تین سالہ مدت میں استعمال کی جائے۔

اس اعتبار سے وفاقی حکومت 611 ارب روپے کا انتظام کرے گی جبکہ بقیہ 375 ارب روپے صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

مزیدپڑھیں: 'کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں، لگتا ہے سندھ اور مقامی حکومت کی شہریوں سے دشمنی ہے'

اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کے سی آر کے حوالے سے بھی سماعت کی تھی اور وفاقی حکومت کو بھی اس منصوبے کو شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پلاننگ کمیشن نے کہا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا پابند ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی کے امدادی پیکج پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شہر قائد کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کے پیکج کے لیے 62 فیصد فنڈنگ وفاقی حکومت اور 38 فیصد سندھ حکومت فراہم کرے گی۔

بعدازاں شبلی فراز نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 146 ارب، کراچی سرکلر ریلوے کے لیے 300 ارب، ریلوے فریٹ ٹرین منصوبے کے لیے 131 ارب، گرین لائن بی آر ٹی کے لیے 5 ارب، ان منصوبوں کے دوران بے دخل ہونے والوں کی آباد کاری کے لیے 254 ارب ادا کرے گی جبکہ باقی فنڈز صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں