ہواوے کا ہارمونی آپریٹنگ سسٹم سے لیس پہلا فون جلد متعارف کرائے جانے کا امکان

08 ستمبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ایرینا
— فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ایرینا

ہواوے نے اپنا ہارمونی آپریٹنگ سسٹم اگست 2019 میں متعارف کرایا تھا مگر اس وقت چینی کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ گوگل پلیٹ فارم کو ہی ترجیح دے گی۔

اس سال 10 ستمبر کو کمپنی کی ڈویلپر کانفرنس میں ہارمونی او ایس 2.0 متعارف کرائے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آرہا ہے۔

مگر اب ایسی لیکس سامنے آئی ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ہواوے اپنے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم سے لیس پہلا فون 2021 میں متعارف کراسکتی ہے۔

درحقیقت ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ ہارمونی او ایس پر مبنی پہلی اسمارٹ واچ رواں سال کے آخر تک پیش کی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ مئی 2019 کو امریکا نے ہواوے اور اس کی ذیلی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے مقامی اداروں کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔

تاہم مئی 2019 سے ہواوے اور اس کے امریکی شراکت داروں کے لیے عارضی لائسنس جاری کیے جارہے تھے تاکہ وہ اپنے کام کو جاری رکھ سکیں۔

ان عارضی لائسنس کی مدت میں متعدد بار اضافہ کیا گیا مگر 13 اگست سے لائسنس کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اس میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔

مئی 2019 کے بعد سے ہواوے فونز گوگل سروسز اور ایپس سے محروم ہیں جبکہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم تو استعمال ہورہا ہے مگر وہ اوپن سورس ہونے کی وجہ سے کمپنی کو دستیاب ہے۔

گوگل سروسز سے محرومی کے بعد ہواوے اور آنر فونز میں ہواوے موبائل سروسز کو متعارف کرایا گیا جن کے ذریعے نئی ڈیوائس کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹس فراہم کی جارہی ہیں۔

گزشتہ سال ہواوے کے سنیئر نائب صدر ونسینٹ یانگ نے نیویارک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا 'ہم ایک معیار اور ایکوسسٹم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ہارمونی کو اسی وقت استعمال کیا جائے گا جب اینڈرائیڈ کے استعمال سے کمپنی کو روک دیا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا بہت کم امکان ہے کہ ہارمونی آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے فون کو کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جائے مگر پابندیوں کے نفاذ پر حالات بدل سکتے ہیں۔