جج کیخلاف نازیبا ریمارکس: پشاور ہائی کورٹ کا وفاقی وزرا کو توہین عدالت کا نوٹس

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2020

ای میل

وزیر قانون فروغ نسیم، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان سمیت چار افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی
وزیر قانون فروغ نسیم، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان سمیت چار افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی

پشاور ہائی کورٹ نے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کے جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر موجودہ اور سابق وفاقی وزرا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اسپیشل کورٹ کے جج کے خلاف وفاقی وزرا کے توہین آمیز بیانات کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ کا وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس

درخواست گزار کے وکیل ملک اجمل خان نے کہا کہ وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں جج کے بارے میں جو بیانات دیے وہ ہم دہرا نہیں سکتے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ پریس کانفرنس کی اور نہ کوئی بیان دیا لہٰذا ان کا نام نکال دینا چاہیے۔

اس پر جسٹس روح الامین نے کہا کہ اس بات کو چھوڑ دیں، آپ لا آفیسر ہیں اور آپ کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے، آپ وزیراعظم اور وزرا کے ذاتی ملازم نہیں، وہ اپنا جواب خود دیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 204 میں صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا ذکر ہے لہٰذا یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل عزیز الدین کاکاخیل نے کہا کہ آرٹیکل 204 میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کورٹ اور جج کا ذکر ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ عدالت ہمیں تھوڑا وقت دے، میں آئندہ پیشی پر اس پر بحث کروں گا جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو آج ہی تیاری کرکے آنا چاہیے تھی، کیا آپ اگلے سال بحث تیار کریں گے۔

عدالت نے وزیر قانون فروغ نسیم، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور وزیر اعظم کی سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 14 روز میں جواب طلب کرلیا۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ

یاد رہے کہ 19 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں بینچ کے 2 ججوں نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنا دی تھی۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کی سزائے موت پر عملدرآمد ہونا چاہیے، سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ

خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ دو، ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

بعد ازاں 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا تھا جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا تھا اور جسٹس شاہد کریم نے ان کی معاونت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’خصوصی عدالت مشرف کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی پابند ہے‘

تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں لاش کو 'ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے' کا ذکر کیا گیا تھا۔

وفاقی وزرا نے کیا کہا تھا؟

وفاقی حکومت نے فیصلہ جاری کرنے والے خصوصی عدالت کے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کو واپس لے لیا گیا۔

بعد ازاں سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور فردوش عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'خصوصی عدالت آرٹیکل 6 کا ٹرائل کر رہی تھی، پہلے مختصر فیصلہ دیا گیا، آج جو تفصیلی جاری کیا گیا اس میں پیراگراف 66 بہت اہم ہے، یہ پیراگراف بینچ کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت سے قبل اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور تین روز تک وہاں لٹکایا جائے۔'

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس: کب کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ 'میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی آبزرویشن دینے کی جج کو کیا اتھارٹی تھی، کہیں پر بھی ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے جس میں کسی جج کو ایسی آبزرویشن دینے کا اختیار ہو، ایسے فیصلے کی کوئی نظیر نہیں ملتی، یہ انتہائی غلط آبزرویشن ہے۔'

فروغ نسیم نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائے جس میں استدعا کی جائے گی کہ ایسے جج صاحب کو پاکستان کی کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج ہونے کا کوئی اختیار نہیں ہے کیونکہ وہ ان فٹ ہیں، اس قسم کی آبزرویشن دے کر مذکورہ شخص ناصرف عدالت کا استحقاق مجروح کرتا ہے بلکہ یہ انصاف کی فراہمی کے لیے بہت کڑا وقت ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جج صاحب نے اس طرح کا فیصلہ دے کر خود کو ذہنی طور پر غیر مستحکم ثابت کردیا ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ جسٹس وقار کو فی الفور کام کرنے سے روک دیا جائے جبکہ عدالت عظمٰن کے سینئر ججز سے درخواست ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کا انتظامی اور عدالتی کام نہ دیا جائے۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'خصوصی عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سر شرم سے جھک گیا، فیصلے میں عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'فیصلے کے پیرا 66 پر شدید تحفظات ہیں، یہ پیرا پوری دنیا میں شرم کا باعث بن رہا ہے، وفاقی حکومت اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جبکہ فیصلے کے خلاف اپیل بھی کرنے جارہے ہیں۔'