امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام، روس کے 4 شہریوں پر پابندی

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

امریکا نے روسی شہریوں پر صدارتی انتخاب میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا—فائل/فوٹو:ڈان
امریکا نے روسی شہریوں پر صدارتی انتخاب میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا—فائل/فوٹو:ڈان

امریکی محکمہ خزانہ کے بیرونی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) دفتر نے امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے روس سے تعلق رکھنے والے 4 افراد پر پابندی عائد کردی۔

محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'او ایف اے سی نے ایندرل درکیچ پر امریکی صدارتی انتخاب 2020 میں مداخلت کی کوششوں پر ایگزیکٹو آرڈر 13848 کے تحت پابندی عائد کردی ہے'۔

الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ 'درکیچ کے روسی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ روس کی ہدایات پر امریکی ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے والی مہم کا حصہ ہیں'۔

مزید پڑھیں: امریکی انتخابی مہم میں دوبارہ روسی مداخلت کے الزامات

بیان کے مطابق روس کی مبینہ مہم کا مقصد 'یوکرین میں اپنے مذموم مفادات کو بڑھانے کے لیے امریکی سیاسی عمل میں جوڑ توڑ کرنا ہے'۔

امریکی خارجہ نے بتایا کہ 'یہ مہم انتخاب کے دن تک چلنے کے لیے تیار کی گئی تھی'۔

دیگر افراد کے بارے میں بیان میں کہا گیا کہ 'روس کے دیگر تین شہریوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو لکھتا انٹرنیٹ ریسرچ کے نام سے مشہور انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی سے منسلک تھے اور یہ روس کی یووگنی پریگوزن کی ذیلی کمپنی ہے'۔

امریکی محکمے نے جن مزید تین شہریوں پر پابندی عائد کی ہے کہ ان کے نام 'آرٹم لفشٹس، اینٹن اینڈریوف اور ڈیریا ایسلونووا ہیں اور یہ انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کی کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس اور امریکی شہریوں کو ہدف بنا کر اثر انداز ہونے کی مہم سے جڑے ہوئے ہیں'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'اس اقدام سے واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکا بیرونی محرکات کا جواب دینے کے لیے تمام قومی وسائل استعمال کرنے میں نہیں ہچکچائے گا جو مداخلت یا ہمارے انتخابات میں کسی دوسرے پہلو سے جوڑ توڑ کی کوشش کرے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کے مقدمے سے بری

محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ 'انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کے خلاف یہ اقدامات امریکی اٹارنی کے ورجینیا کے مشرقی ضلع کے دفتر اور امریکا کی خفیہ سروس سے معاونت سے کیے گئے ہیں'۔

خیال رہے کہ امریکا کے 2016 کے انتخاب میں بھی روس کی مداخلت کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ روس نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

رواں برس فروری میں امریکی خفیہ اداروں کے سربراہ جوزف ماگوئر نے قانون سازوں کو بریفنگ میں امریکا کے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت سے متعلق خبردار کیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 19 فروری کو تبدیل بھی کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ماسکو چاہتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ انتخابات جیتیں اور اس کے لیے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمریز میں مداخلت کر رہا ہے۔

دوسری جانب روس اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کردی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا تھا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس نے ایک اور غلط معلومات پر مبنی مہم کا آغاز کیا ہے جبکہ روس ڈیموکریٹس کے ان امیدواروں پر مجھے ترجیح دیتا ہے جو کچھ نہیں کرتے اور وہ ابھی تک آئی اووا کے ووٹ تک نہیں گن سکے ہیں۔

مزید پڑھیں:روس سے چھٹکارا دلانے پر امریکا نے معافی کی پیشکش کی، جولین اسانج کے وکیل کا دعویٰ

ماسکو میں روسی حکومت کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ایسے مذموم اعلانات کی طرح ہیں جن میں انتخابات کے قریب آتے ہی اضافہ ہوجائے گا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گزشتہ صدارتی انتخاب کے بارے میں ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ میولر کی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ روس نے ٹرمپ کی حمایت میں مداخلت کی تھی تاہم یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی مہم ماسکو سے ہی چلائی گئی تھی۔

امریکی صدر پر بعد ازاں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے لڑنے والے یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے پر مواخذے کی کارروائی بھی کی گئی تھی۔

تاہم ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے زیر اثر سینیٹ نے 16 فروری کو انہیں بری کردیا تھا جس کے بعد امریکی صدر نے ان کے خلاف شواہد فراہم کرنے والے افسران کو برطرف کردیا تھا۔