کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی جواب کے منتظر ہیں، وفاقی وزیر

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

فروغ نسیم کے مطابق پاکستان عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے کے ساتھ ساتھ تمام بین الاقوامی قوانین کی تعمیل کرنا چاہتا ہے - فائل فوٹو:ڈان
فروغ نسیم کے مطابق پاکستان عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے کے ساتھ ساتھ تمام بین الاقوامی قوانین کی تعمیل کرنا چاہتا ہے - فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارتی جاسوس کمانڈر کبھوشن یادیو کو فوجی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے نظرثانی اپیل پر قانونی نمائندے کے تقرر کے لیے اپنی پیش کش پر بھارتی جواب کا انتظار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان نہ تو بنانا ریپبلک ہے اور نہ ہی غیر اصولی ریاست ہے اور پاکستان عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے کے ساتھ ساتھ تمام بین الاقوامی قوانین کی تعمیل کرنا چاہتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اسی دوران دوسری جانب ہم دیگر ریاستوں سے بھی اسی طرح کے ردعمل کی توقع کرتے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں'۔

سپریم کورٹ کے پریس ایسوسی ایشن کے وفد سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بھارتی جاسوس کے دفاع کے لیے وکیل کے تقرر کے لیے پہلے ہی ہائی کورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: بھارت کو وکیل مقرر کرنے کی ایک اور پیشکش کی جائے، عدالت

ان کا کہنا تھا کہ آئی سی جے نے بھارتی جاسوس کو فوری طور پر قونصلر رسائی کی اجازت دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد پاکستان سے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی سزا پر جائزہ لینے اور اس پر دوبارہ غور و خوض کو یقینی بنایا جائے۔

3 اگست کو ہونے والی آخری سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارت اور کلبھوشن یادیو کو ایک اور موقع فراہم کیا تھا کہ وہ جاسوس کے دفاع کے لیے ایک قانونی وکیل مقرر کرے۔

وزیر قانون نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئی سی جے کے فیصلے کے پابند نہیں تھے مگر پھر بھی اس کے نتائج برآمد ہوتے جن سے گریز کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی آئی سی جے کے سامنے اس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر توہین عدالت کا مقدمہ کرتا اور اسلام آباد کے خلاف پابندیوں کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا تھا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ 'ہم نے جاسوس اور بھارتی حکومت دونوں سے قانونی وکیل مقرر کرنے یا پھر پاکستانی حکومت کو اپنے طور پر وکیل مقرر کرنے کی اجازت دینے کا کہہ کر اس راستے کو ہی بلاک کردیا ہے'۔

کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔

بعد ازاں اس نے بھارتی جاسوس ایجنسی را سے اپنی وابستگی اور پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

2017 میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے انہیں سزائے موت سنائی تھی جس کی تصدیق آرمی چیف نے 10 اپریل 2017 کو کی تھی۔

بعدازاں کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی درخواست دائر کی تھی، جو ابھی بھی زیر غور ہے۔

کلبھوشن یادیو کو رواں سال 17 جون کو پیش کش کی گئی تھی کہ وہ اپنی سزا پر نظر ثانی کے لیے ایک درخواست دائر کرے۔

ایم کیو ایم کا نظریہ

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ جہاں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے بانیوں کے نظریے پر چلتی ہیں وہیں متحدہ قومی موومنٹ ملک کی تاریخ کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے بانی (الطاف حسین) کو ہی نکال دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اردو بولنے والے صرف ریاست پاکستان کے وفادار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل مقرر کرنے کی حکومتی درخواست 3 اگست کو سماعت کیلئے مقرر

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن نہیں بلکہ ایم کیو ایم پاکستان اردو بولنے والی برادری کے حقیقی جذبات کی نمائندگی کرتی آئی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا نظریہ پاکستان تحریک انصاف کے نظریہ سے مشابہت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں اتحادی ہیں اور اس ملک کے عوام کی خدمت کے لیے ہاتھ ملا چکی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف معیار

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ضمن میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے میڈیا کو یقین دہانی کرائی کہ آئین یا فوجداری ضابطہ اخلاق کے خلاف کوئی قانون کبھی نہیں بنایا جائے گا اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے منی لانڈرنگ کی کوششوں کو جرم قرار دینا ایف اے ٹی ایف کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون سازوں کو سمجھایا ہے کہ منی لانڈرنگ، کالے دھن، جعلی اکاؤنٹس رکھنا اور دہشت گردی کی مالی اعانت جیسے جرائم کی حوصلہ شکنی اور جانچ پڑتال ایف اے ٹی ایف کا معیار ہے اور اس پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کا فائدہ صرف اور صرف پاکستان کو ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ان جرائم کو پہلے ہی قابل شناخت بنا چکا ہے۔