سی ای او جنگ گروپ میر شکیل الرحمٰن کا ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

جنگ گروپ کے سی ای او میر شکیل الرحمٰن—فائل فوٹو: اے ایف پی
جنگ گروپ کے سی ای او میر شکیل الرحمٰن—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جنگ گروپ آف نیوز پیپر کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمٰن نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ سے قید میں موجود میڈیا ٹائیکون نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے لاہور ہائیکورٹ کے 8 جولائی کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کی ضمانت مسترد کرنا حقائق اور ریکارڈ کی غلط اور قابل اطلاق قانون کی غلط رائے کے مترادف ہے۔

مذکورہ درخواست میں ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر/انویسٹی گیشن آفیسر محمد عابد حسین کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی

درخواست میں کہا گیا کہ پلاٹس کے استثنیٰ (54 کنال زمین کی خریداری میں قوائد کی خلاف ورزی) کے 34 سال پرانے معاملے کو دوبارہ کھولا جارہا ہے جس کے بارے میں نہ تو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) یا کسی دیگر اتھارٹی یا زمین کے سابق مالک نے کوئی شکایت کی یا قانون سے بالاتر ہونے کا معاملہ اٹھایا۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ این اے او 1999 کے تحت درخواست گزار کے خلاف کارروائی کا آغاز اور اس میں تسلسل میں بدنیتی کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 12 مارچ 2020 کو درخواست گزار کی گرفتاری پر اسلام آباد میں چیئرمین نیب اور لاہور میں نیب کے حکام نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔

واضح رہے کہ 12 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو نیب کے لاہور دفتر میں طلبی کے نوٹس کے ساتھ دیے گئے سوالات کے جوابات جمع کروانے کے لیے بلایا تھا اور پھر اسی موقع پر ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

درخواست میں الزام لگایا گیا کہ نیب کی جانب سے درخواست گزار کی گرفتاری کے لیے بنیاد بنانے کے لیے لگایا گیا ہر الزام بدنیتی پر مبنی، من گھڑت اور جھوٹا ہے جبکہ یہ مذموم مقاصد اور قانون سے ماورا ہے۔

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد انہیں اگلے ہی روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نیب نے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ 45 دن تک کی توسیع ہوئی، بعد ازاں 28 اپریل کو ایک حکم نامے کے ذریعے انہیں بالآخر عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔

ان کی گرفتاری کے بعد درخوست گزار اور ان کی اہلیہ نے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کیں جس میں گرفتاری اور ریمانڈ آرڈرز کو چیلنج کیا لیکن 7 اپریل کو ہائیکورٹ نے 'میرٹ پر پورا نہ اترنے اور نامکمل' ہونے کا کہتے ہوئے درخواستوں کو مسترد کردیا۔

علاوہ ازیں نیب نے درخواست گزار اور 3 شریک ملزمان میاں نواز شریف، جو 1986 میں وزیراعلیٰ پنجاب اور ایل ڈی اے کے چیئرمین تھے، ہمایوں فیض رسول جو اس وقت ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور میاں بشیر احمد جو اس وقت ایل ڈی اے لینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر تھے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ یہ دیکھنے میں ناکام رہا کہ فریقین کی کارروائی شکایت کی اچھے سے جانچ پڑتال کرنے، اس کے جوابات حاصل کرنے اور پھر اسے انکوائری اور دیگر میں تبدیل کرنے کے بجائے درخواست گزار کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے مذموم مقاصد پر تھی تاکہ دوسروں کو لائن میں رکھنے کے لیے اسے پوری میڈیا انڈسٹری کے لیے مثال بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس: میر شکیل الرحمٰن کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار ٹائنی ٹس، سونے میں مسائل، سانس لینے میں مشکلات، ہائپر وینٹی لیشن اور شدید بے چینی کا شکار ہیں اور ان کے حالیہ میڈیکل ٹیسٹ میں گردے، غدود میں مسائل اور پیشاب میں خون کے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔

علاوہ ازیں عدالتی حراست میں ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز نے بدنیتی کا شبہ ظاہر کیا ہے، اس کے علاوہ درخواست گزار کے حراست میں ہونے کے دوران ان کے ایک بھائی اور بہن کی کینسر سے موت بھی واقع ہوئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ چونکہ میر شکیل الرحمٰن 6 ماہ سے قید میں ہیں اور ان کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ رہی ہے۔