حریت کانفرنس کا تمام گرفتار کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے بین الاقوامی متنازع علاقے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔—فائل فوٹو: اے پی
گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے بین الاقوامی متنازع علاقے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔—فائل فوٹو: اے پی

مظفرآباد: آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج اور انتظامیہ کی جانب سے 5 اگست سے قبل اور بعد میں گرفتار کیے گئے تمام کشمیری رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے بین الاقوامی متنازع علاقے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

اس سلسلے میں ایک جاری کردہ بیان میں سری نگر سے تعلق رکھنے والی آزادی کی حامی اس تنظیم نے قیدیوں کی حالت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

ان قیدیوں میں حریت کانفرنس کے رہنما اور کارکنان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کشمیری شامل ہیں جنہیں بالخصوص کووِڈ 19 کے دوران کوٹ بھلوال، امپھلا، جودھ پور، تہاڑ، آگرہ، ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر کی دیگر جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 500 سے زائد حریت رہنما و کارکنان گرفتار

قیدیوں کو ظلم کا ہدف قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ اے پی ایچ سی کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق بھی 5 اگست 2019 سے گھر میں نظر بند ہیں۔

حریت کانفرنس نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات تمام افراد کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں بالخصوص ان کی شخصی آزادی کے، جسے عالمی فورمز نے دنیا بھر کے افراد کا بنیادی انسانی حق قرار دیا ہے۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ مسلسل گرفتاریوں اور جیلوں کی ابتر صورتحال کے باعث زیادہ تر قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہورہی ہے جو تمام کشمیریوں کے لیے سخت تشویش اور پریشانی کا معاملہ ہے اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

مزید پڑھیں:سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرلی

تاہم بیان میں واضح کیا گیا کہ خوف اور جبر کی پالیسی لوگوں کے جذبات پر یقین اور محسوس کرنے کے زمینی حقائق کو جلد یا بدیر تبدیل نہیں کرسکتی۔

اس طویل المدتی تنازع کے فوری اور پر امن حل پر زور دیتے ہوئے حریت کانفرنس کا کہنا تھا کہ 'جس طرح جموں کشمیر 14 اگست 1947 میں تھا اس کے ہر خطے کے عوام کے پاس براہ راست جا کر یا تمام معروف اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے غور و فکر کے ذریعے جتنی جلدی یہ کرلیا جائے تو پورے خطے کے عوام کے لیے بہتر ہوگا'۔


یہ خبر 11 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔