اپنے ہی ملک میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہوں، عائشہ عمر

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

اداکارہ نے موٹروے پر خاتون کے ریپ پر غم و غصے کا اظہار کیا—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ نے موٹروے پر خاتون کے ریپ پر غم و غصے کا اظہار کیا—فوٹو: انسٹاگرام

ایک روز قبل پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گجرپورہ کے قریب گاڑی خراب ہونے پر مدد کی منتظر خاتون کو مبینہ طور پر 2 'ڈاکوؤں' کی جانب سے 'گینگ ریپ' کا نشانہ بنانے پر پورے ملک میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خاتون کو 'ڈاکوؤں' نے اس وقت ریپ کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی کار میں بچوں سمیت مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔

خاتون کی کار نامعلوم وجہ کے باعث بند ہوگئی تھی اور انہوں نے گوجرانوالہ میں اپنے رشتے داروں کو بھی اس کی اطلاع دی تھی۔

تاہم مدد کرنے والے افراد سے قبل ہی 2 مسلح افراد نے خاتون کو اکیلا دیکھ کر اسے اسلحے کے زور پر بچوں سمیت قریبی کھیت میں لے گئے اور وہاں خاتون کا گینگ ریپ کیا۔

واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی حکومت سے ملزمان کو گرفتار کرکے انہیں سرعام پھانسی دیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

اسی واقعے پر کئی اہم شخصیات نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا اور ایسی ہی شخصیات میں معروف اداکارہ عائشہ عمر بھی ہیں۔

عائشہ عمر نے اکیلی خاتون کا راستے میں گینگ ریپ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ ایسے واقعات کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی ہیں۔

عائشہ عمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ہنگامی حالت میں رات کو گھر سے نکلنا پڑے گا اور اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ایمرجنسی طبی امداد کی ضرورت ہوں گی؟

اداکارہ نے مزید لکھا کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک میں رات ایک بجے تنہا نکل کر سڑک پر پیدل چلتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں مگر وہ اپنے ہی ملک کے اندر خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

عائشہ عمر نے لکھا کہ اگر وہ اپنے ہی ملک میں اپنی ہی کار میں موجود ہوں گی تو بھی وہ خود کو غیر محفوظ تصور کریں گی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا بچی اور خاتون سے 'زیادتی' کے واقعات کا نوٹس

ساتھ ہی اداکارہ نے موٹروے واقعے کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

خیال رہے کہ موٹروے پر مدد کی منتظر خاتون کے گینگ ریپ کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب کہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی ایک خواجہ سرا کو قتل کردیا گیا تھا۔

موٹروے پر مدد کی منتظر خاتون کے گینگ ریپ اور کراچی میں بچی کے ریپ اور قتل کے واقعے کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے حکام کو جلد سے جلد رپورٹ پیش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔

تاہم دونوں واقعات کو 48 سے 24 گھنٹے کے وقت گزر جانے کے باوجود پولیس نے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا تھا۔