وزیراعظم عمران خان کا بچی اور خاتون سے 'زیادتی' کے واقعات کا نوٹس

ای میل

لاہور موٹروے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک
لاہور موٹروے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے 2 بڑے شہروں میں بچی اور خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں ایک کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور بچی کی مسخ شدہ لاش پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک خالی پلاٹ سے ملی تھی۔

انہیں دونوں واقعات پر اب وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے۔

مزید پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ چوہدری شہزاد اکبر نے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب پیش آئے ہولناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کو پکڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں سخت سے سخت سزا ملے۔

بعد ازاں وزیراعظم آفس نے ٹوئٹ میں بتایا کہ عمران خان نے معصوم بچی اور خاتون سے زیادتی کے مختلف واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے۔

دفتر وزیراعظم کے مطابق عمران خان نے کہا کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔

انہوں نے متعلقہ آئی جیز سے ان واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لانے اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم دیا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے معصوم بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات کے تدارک کے حوالے سے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی لاہور موٹروے 'گینگ ریپ' کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔

دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان مسرت چیمہ نے واقعے سے متعلق بتایا کہ پولیس نے مبینہ گینگ ریپ میں ملوث ہونے کے شبہ میں 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔

مسرت چیمہ نے کہا تھا کہ پنجاب پولیس اور متعلقہ محکمے 'موٹروے کے دردناک واقعے میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے معاونت کے ساتھ کام کر رہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی 8 سالہ بچی دم توڑ گئی

واضح رہے کہ گزشتہ شب گجرپورہ کے علاقے میں 2 'ڈاکوؤں' نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا تھا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔

متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ کا سفر کر رہی تھیں۔

اس حوالے سے ایک پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ خاتون نے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ٹول پلازہ عبور کیا کہ ان کی گاڑی یا تو پیٹرول کی قلت یا کچھ اور خرابی کی وجہ سے رک گئی۔

اسی دوران انہیں گوجرانوالہ سے ایک رشتے دار کی کال آئی، جنہوں نے انہیں پولیس ہیلپ لائن پر مدد کے لیے کال کرنے کا کہا جبکہ وہ خاتون تک پہنچنے کے لیے گھر سے نکل گیا، جب مذکورہ رشتے دار جائے وقوع پر پہنچا تو وہاں خاتون موجود تھی جو گھبرا رہی تھیں اور ان کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا۔

ادھر متاثرہ خاتون کے رشتے دار کی جانب سے تھانہ گجر پورہ میں درج کروائی جانے والے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں بتایا گیا کہ خاتون نے انہیں اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے اور گاڑی بند ہوگئی ہے، جس پر انہوں نے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے کا کہا جبکہ وہ خود بھی موقع پر پہنچنے کے لیے ایک دوست کے ہمراہ نکل گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تو گاڑی کا ڈارئیونگ سائڈ والا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے پر خون بھی تھا جبکہ خاتون اور بچے وہاں موجود نہیں تھے، جب انہوں نے ان کی تلاش شروع کی تو قریب ہی جنگل کے درمیان کچے راستے سے خاتون آتی دکھائی دیں، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ 2 نامعلوم افراد جن کی عمر 30 سے 35 سال کے درمیان تھی وہ وہاں پہنچ گئے۔

مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ دونوں افراد مسلح تھے اور ان کے پاس ڈنڈا بھی تھا جس کے بعد انہوں نے ڈرائیونگ سائڈ کا شیشہ توڑا اور انہیں بچوں سمیت گاڑی سے نکال کر موٹروے کے ساتھ نیچے جنگل میں لے گئے جہاں خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

قریبی عزیز کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ افراد جاتے ہوئے ان کے پرس سے ایک لاکھ روپے نقدی، 2 طلائی کڑے، ایک بریسلیٹ، گاڑی رجسٹریش کارڈ اور 3 اے ٹی ایم ساتھ لے گئے۔

مذکورہ ایف آئی آر میں مطالبہ کیا گیا کہ اس تمام واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

تحقیقات کیلئے 20 ٹیمیں قائم

ادھر نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بتایا کہ واقعے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (انویسٹی گیشن) کی سربراہی میں لاہور پولیس اور سی آئی اے کی 20 ٹیمیں قائم کردی گئی ہیں جو اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور خاتون اور ان کے گھر والوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس ٹیمز 'دن اور رات' کام کر رہی ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ثبوت، جیوفینسگ، نادرا ریکارڈز اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مشتبہ افراد میں نصف سے زائد سے تفیش جارہی ہے جبکہ اس طرح کے واقعات میں پرانا ریکارڈ رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمانڈ افسران کو اسے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لینا چاہیے اور جلد از جلد اس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔

ساتھ ہی آئی جی نے واضح کیا کہ 'جنسی استحصال اور ظلم میں ملوث سماجی مجرموں کی گرفتار میں کوئی غیرذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی'۔

قبل ازیں انہوں نے نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کے پروگرام 'جیو پاکستان' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ملزمان تک پہنچے اور ابھی تک ہم اس جگہ (گاؤں) تک پہنچ پائے ہیں جہاں سے ملزمان نکلے تھے۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: نوجوان خاتون کا ’اغوا کے بعد ریپ‘

آئی جی پنجاب کے مطابق ہم نے اب تک 70 کے قریب ملزمان کی پروفائلنگ کرلی ہے اور سی آئی اے اور لاہور پولیس کی 20 ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں ملزمان جلد گرفتار ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ایک بہت اہم ثوبت ملا ہے لیکن میں اس کو ٹی وی پر نہیں بتانا چاہوں گا کیونکہ یہ قصورواروں کو مدد فراہم کرسکتا ہے، تاہم یہ ثبوت ہمیں سیدھا ملزمان تک پہنچائے گا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

علاوہ ازیں اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سیاسی و سماجی شخصیات، سیاست دانوں اور عوام کی بڑی تعداد نے غم و غصے کا اظہار کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

یہی نہیں بلکہ ٹوئٹر پر 'موٹروے انسی ڈینٹ' (موٹروے واقعہ) اور 'پبلک ہینگنگ آف ریپیسٹ (زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی) دینے جیسے ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ رہے۔

اسی واقعے پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزارت کے علاقائی دفتر کو فوری طور پر پولیس سے واقعے کی ایکشن رپورٹ لینے کا کہا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ وزارت کو رپورٹ کے ساتھ ایف آئی آر کی نقل بھی موصول ہوئی ہے۔

وہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے واقعے کو 'افسوس ناک، شرم ناک اور قابل مذمت' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون کے نفاذ کے پورے نظام کے مفلوج ہونے اور قومی شرمندگی کا ثبوت ہے، ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ زینب کیس کی طرح اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں تاکہ ملزمان قانونی چارہ جوئی کے دوران سزا سے نہ بچ سکیں۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ساتھ کام کریں اور ملزمان کو پکڑ کر متاثرہ خاندان کو انصاف دلائیں۔

دریں اثنا پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے مذکورہ واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

انہوں نے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے، واقعے کی فوری تحقیقات کرکے ملوث درندوں کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اہم شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات حکومت کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب اور متعلقہ وزیر اس واقعے کے بعد اپنی نااہلی قبول کر کے فوری مستعفی ہوجائیں۔

توجہ دلاؤ نوٹس

وہیں پیپلزپارٹی نے خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کے واقعے پر سینیٹ سیکریٹریٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے یہ نوٹس جمع کروایا گیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ مسلح افراد خاتون اور اسکے بچوں کو ہتھیاروں کے زور پر قریبی زمینوں میں لے گئے گئے اور خاتون سے 'اجتماعی زیادتی' کی، متعلقہ وزیر اس معاملے پر ایوان کو آگاہ کریں۔

آئی جی پنجاب سینیٹ کمیٹی اجلاس میں طلب

مزید برآں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے مذکورہ معاملے پر آئی جی پنجاب اور سیکریٹری مواصلات کو طلب کرلیا۔

سینیٹ کمیٹی نے آئی جی پنجاب اور وزارت مواصلات کو نوٹس جاری کردیے، اس معاملے پر اب اجلاس 14 ستمبر کو مصطفیٰ نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوگا،

اس حوالے سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ خاتون کی جانب سے موٹروے پولیس کو کی گئی فون کال پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کہ خاتون کے ساتھ پیش آئے واقعے پر آئی جی اور سیکریٹری مواصلات بریفنگ دیں۔