کووڈ 19: عالمی رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ورچوئل ملاقات پر مجبور

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

وزیر اعظم عمران خان 25 ستمبر کو عالمی ادارے سے خطاب کریں گے۔ فائل فوٹو:یو این
وزیر اعظم عمران خان 25 ستمبر کو عالمی ادارے سے خطاب کریں گے۔ فائل فوٹو:یو این

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کا 75 واں اجلاس منگل (15 ستمبر) کو نیویارک میں شروع ہوگا جبکہ اعلی سطح کی عام بحث کا آغاز 22 ستمبر سے ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اقوام متحدہ کے تمام ممبران کو آگاہ کیا ہے کہ نیویارک پہنچنے والے تمام افراد پر 14 دن کا قرنطینہ لازم کردیا گیا ہے، یہ پابندی ریاستوں کے سربراہان اور حکومتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

24 اکتوبر 1945 کو کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے یہ پہلی جنرل اسمبلی ہوگی جب یورپی یونین سے الحاق کے لیے ترکی کی جانب سے مذاکرات کرنے والے ولکان بوزکیر اس 75 ویں اجلاس کی صدارت کریں گے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر کی پاکستان آمد

وزیر اعظم عمران خان 25 ستمبر کو عالمی ادارے سے خطاب کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 21 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کریں گے اور اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے صدر کی حیثیت سے شرکا کو بریف کریں گے۔

یکم اکتوبر کو وزیر خارجہ بیجنگ ویمن کانفرنس کی 25 ویں سالگرہ منانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ رواں سال اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے لہذا ان دو ہفتوں، 15-30 ستمبر تک سیکڑوں تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا پاکستان میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان پر حملوں پر اظہار تشویش

جنرل اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے صدر تیجانی محمد بانڈے نے کہا کہ 75 ویں یو این جی اے 'ہمارے لیے اقوام کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ایک انوکھا موقع پیش کرتا ہے کیونکہ ہم سب ایک جیسی امنگیں رکھتے ہیں اور ہمارے پاس ساتھ مل کر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے'۔

1945 کے بعد سے ہر ستمبر میں ممبر ممالک سالانہ اجلاس کے لیے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل اسمبلی ہال میں ملتے ہیں تاہم اس سال کورونا وائرس عالمی رہنما کو نیو یارک میں اکٹھے ہونے سے روک رہا ہے۔

اس کے بجائے یو این جی اے کی تقاریب بنیادی طور پر ورچوئل طریقہ کار پر ہوں گی جس میں ریاستوں اور حکومت کے سربراہان کے بیانات پہلے سے ریکارڈ کیے ہوئے چلائے جائیں گے۔

وزیر اعظم خان اور وزیر خارجہ کی تقاریر بھی اسلام آباد سے جاری ہوں گی۔