'پاکستان اسٹیل ملز اب باعث تشویش نہیں'

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2020

ای میل

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پر واجبات اس کے اثاثوں سے زیادہ ہیں ۔ فائل فوٹو:رائٹرز
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پر واجبات اس کے اثاثوں سے زیادہ ہیں ۔ فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: ملک کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) اب کسی تشویش کا باعث نہیں کیونکہ اس پر واجب الادا رقم اس کے اثاثوں سے زیادہ ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات آزاد آڈیٹرز نے حکومت کو جمع کرائے گئے ایک بیان میں کہی۔

پی ایس ایم کے بیرونی آڈیٹرز، کرو حسین چوہدری اینڈ کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، نے اپنی ’کوالیفائڈ آڈٹ رپورٹ' میں 30 جون 2019 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی بیانیے کے بارے میں اپنی رائے دی۔

آسان الفاظ میں کوالیفائڈ رپورٹ میں ان کا کہنا تھا کہ مالی اسٹیٹمنٹ یا تو غلط ہے یا محدود ہے یا اکاؤنٹنگ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے اسٹیل ملز ملازمین کو فارغ کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی

آڈیٹرز نے وضاحت کی کہ موجودہ تشویش مفروضے کے بنیاد پر تھیں جس میں بتایا گیا تھا کہ ادارہ مستقبل میں کاروبار جاری رکھ سکتا ہے اور مالی بیانیہ تشویش کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا حتیٰ کہ انتظامیہ اس ادارے کو ختم نہ کردے یا آپریشن بند کردے یا اس کے پاس کوئی حقیقت پسندانہ متبادل ہو۔

آڈیٹرز نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے انہیں پیش کیے گئے مالی نتائج کا جائزہ لیا جو 09-2008 سے ایک دہائی کے دوران تقریبا ہر سال نقصانات اکٹھا کر رہا تھا۔

10 جون 2015 کو اسٹیل مل کی گیس سپلائی منقطع ہونے پر اس کے آپریشنز بند ہونے کے بعد پیش کی گئی اس مل کی نجکاری پر آڈیٹرز نے اس کے مالی بیانیے کا آڈٹ کیا۔

آڈٹ میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے 30 جون 2019 کو پی ایس ایم کے جمع شدہ نقصان 189 ارب 72 کروڑ 90 لاکھ روپے بتائے تھے اور بیلنس شیٹ پر واجبات اس کے موجودہ اثاثوں سے 159 ارب 36 کروڑ 80 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

بتایا گیا کہ 'یہ صورتحال دیگر امور کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی ظاہر کرتے ہیں جو کارپوریشنز کی تشویش کی حیثیت سے جاری رکھنے کی صلاحیت کے بارے میں اہم شبہات پیدا کرسکتے ہیں'۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسری جانب وزیر صنعت حماد اظہر نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ 30 جون 2019 کو ختم ہونے والے سال میں اسٹیل مل کا خسارہ 16 ارب 66 کروڑ روپے رہا اور اس نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران مجموعی آپریشنل نقصانات میں 169 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان کیا۔

تاہم آڈیٹرز نے کہا کہ مالی بیانیہ مختلف وجوہات اور تخفیفی عوامل کی وجہ سے تشویش کی بنیاد پر تیار کیا گیا خاص طور پر اس بنیاد پر کہ وفاقی حکومت نادہندہ ہونے کی صورت میں کارپوریشن کو نجات دلائے گی اور پی ایس ایم سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ساتھ اپنے مالی تنازع میں کامیاب ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملازمت سے نکالنے کا معاملہ: اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کا عدالت سے رجوع

آڈٹیٹرز کا کہنا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی معیارات، اور ضابطوں کے مطابق آزادانہ طور پر آڈٹ کیا اور شواہد پر ہی یقین کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'حاصل کردہ شواہد قابل رائے فراہم کرنے کے لیے مناسب ہیں'۔

حماد اظہر نے سینیٹ کو ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ حکومت پی ایس ایم کی بحالی اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے مستقل کوششیں کررہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مالی اعانت دی گئی تھی لیکن ایس ایس جی سی ایل کے جمع شدہ واجبات کی وجہ سے گیس کی فراہمی منقطع ہونے سے یہ کام مکمل طور پر رک گیا ہے۔

وزیر نے کہا کہ کابینہ نے اب کارپوریشن کو نجکاری کی فہرست میں شامل کردیا ہے اور ٹرانزیکشن ایڈوائزر کے تقرر کا حکم دیا ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 'مالیاتی مشیر نجکاری کمیشن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو مختلف پیرامیٹرز کی بنیاد پر پی ایس ایم کی بحالی کے لیے بہترین ممکنہ آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں'۔

پی ایس ایم کے مالی سال 19-2018 کے مالی بیانیے میں مجموعی نقصانات 193 ارب روپے، کل واجبات 228 ارب روپے اور اثاثوں کی نئی لاگت 410 ارب روپے اور مجموعی مالیت 182 ارب روپے بتائی گئی تھی۔