وفاقی کابینہ نے اسٹیل ملز ملازمین کو فارغ کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی

اپ ڈیٹ 10 جون 2020

ای میل

— فوٹو: بشکریہ وزیر اعظم آفس
— فوٹو: بشکریہ وزیر اعظم آفس

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کی تقثیق کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جہاں اسٹیل ملز، کورونا وائرس کی صورت حال، پیٹرول کی قلت اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی اور فیصلے کیے گئے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 3 جون 2020 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

مزید پڑھیں:اقتصادی رابطہ کمیٹی کی اسٹیل ملز کے 9 ہزار 350 ملازمین فارغ کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ نے اسٹیل ملز کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر تفصیلی غور کیا اور نوٹ کیا کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا اصلاحات کا ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے کابینہ نے کہا کہ سالہا سال سے غیر فعال ادارے کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد میں اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھا یا جائے۔

خیال رہے کہ ای سی سی نے 3 جون کو پاکستان اسٹیل مل کے 9 ہزار 350 ملازمین (100فیصد) کو برطرف کرنے کی منظوری دی تھی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ فیصلے کے نتیجے میں حکومت اسٹیل ملز کے 100 فیصد ملازمین کو فارغ کردے گی جن کی تعداد 9 ہزار 350 ہے، کُل تعداد میں سے صرف 250 ملازمین کو اس منصوبے پر عمل درآمد اور ضروری کام کی انجام دہی کی خاطر 120 روز کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔

ای سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد تمام ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کردیے جائیں گے۔

اس منصوبے کا مالیاتی اثر 19 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ روپے کے برابر ہوگا جو گریجویٹی اور پراوڈنٹ فنڈز کی ادائیگی کے لیے یکمشت جاری کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے حکومت کو پاکستان اسٹیل ملز کی زمین فروخت کرنے سے روک دیا

اس کے علاوہ اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہوں کے ادائیگی کی مد میں منظور شدہ ضمنی گرانٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی اس طرح ہر فرد کو اوسطاً 23 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

معاشی حالات کے باعث لاک ڈاؤن ممکن نہیں، وزیراعظم

کابینہ کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے کیسز سے متاثرہ مریضوں کی ضروریات پوری کرنے اور ملک میں صحت کی سہولیات کو مستحکم کر نے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں آکسیجن کی سہولت سے آراستہ مزید ایک ہزار بستروں کی سہولت رواں ماہ قائم کی جائے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی صورت حال میں قیادت کا کردار اہم ہے، ہمارے عوام کے ایک طبقے میں کورونا کے بارے میں اب بھی غلط فہمیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کے پیش نظر لاک ڈاؤن ممکن نہیں کیونکہ جہاں ہمیں ایک طرف کورونا سے خطرہ ہے وہاں دوسری طرف غربت بھی ہمارے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

مزید پڑھیں:ملازمت سے نکالنے کا معاملہ: اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کا عدالت سے رجوع

وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے کے بجائے اس صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہو کر کورونا کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

عوام کو ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

کابینہ کے اجلاس کو وفاقی دارالحکومت میں واقع ہسپتالوں میں کورونا سے متعلق دستیاب سہولیات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ رواں ماہ مختلف ہسپتالوں میں مزید 200 بستروں کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

شوگر انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر بریفنگ

کابینہ کو شوگر انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں عملی اقدامات پر وزیرِ اعظم کی منظوری سے عمل درآمد شروع کیا جا چکا ہے۔

بتایا گیا کہ اس کارروائی کے تین حصے ہیں، پہلا حصہ سزا اور ریکوری سے متعلق ہے جس میں سات مختلف اقدامات ہوں گے۔

شوگر اسکینڈل کے حوالے سے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ 2014 سے 2019 کے دوران 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔

تاہم وزیرِ اعظم کی ہدایت پر یہ مسئلہ نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور بے نامی ٹرانزیکشنز کا معاملہ ایف بی آر کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو 90 دنوں میں کارروائی مکمل کرے گا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ کمیشن نے صرف 9 ملوں کے معاملات کا جائزہ لیا تھا لیکن اب وزیرِ اعظم کے احکامات کی روشنی میں ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بقیہ 88 ملوں کے معاملات کا بھی جائزہ لے۔

اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ کارٹیلائزیشن کا معاملہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے کر دیا گیا جو 90 دنوں میں کارروائی مکمل کرے گا۔

قرضے معاف کرانے، بینکوں کے پاس رہن شدہ اثاثوں کو بیچنے اور لون ڈیفالٹ کا معاملہ اسٹیٹ بینک کے حوالے کیا گیا ہے جو 90 دنوں میں اپنا کام مکمل کرے گا۔

شوگر اسکینڈل سے متعلق کارپوریٹ فراڈ کا معاملہ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے حوالے کیا گیا ہے، برآمدات میں فراڈ اور منی لانڈرنگ کا معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم اور دیگر اراکین کو بتایا گیا کہ گنے کی قیمتوں اور متعلقہ صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی پیداواری قیمت کا تعین کرنے اور اس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے وزیر برائے صنعت و پیداوار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اقدامات کے لیے سفارشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی کی سطح پر اقدامات تجویز کرے گی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوگر انکوائری کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مکمل شفافیت اور عوام کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چینی کی قیمت میں ہر صورت کمی لائیں گے اور عوام دیکھے گی کہ حکومت کے سامنے صرف عوام کا مفاد مقدم ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جنگ ہے جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوگا ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پر نوٹس

وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں میں پiٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کی رپورٹس پر نوٹس لیا۔

عمران خان نے ہدایت کی کہ اس مصنوعی قلت کا سبب بننے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

پولٹری کی قیمتوں میں اضافہ بھی زیربحث

کابینہ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا۔

وزیرِ اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کنٹرول کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے اور اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ کابینہ کو پیش کی جائے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کو متروکہ املاک کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے اور متروکہ املاک وقف بورڈ کے معاملات کو منظم کرنے کے حوالے سے ٹاسک فورس کی سفارشات سے متعلق بریف کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ متروکہ وقف املاک کی ملکیت میں 47 ہزار املاک ہیں۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متروکہ املاک کی جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کو تیز کیا جائے اور ان کی جیو ٹیگنگ کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔