ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی منظوری کیلئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج متوقع

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

رات گئے تک پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشین جاری نہیں کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی پی
رات گئے تک پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشین جاری نہیں کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020 منظور کرلیا جبکہ ایوان میں ایک اور بل پیش کیا گیا جس میں ملک کی مسلح افوج اور اس کے اہلکاروں کو 'بدنام' کرنے پر 2 سال تک کی سزا اور 5 لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی تھی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے گزشتہ ماہ سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے روکے گئے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز منظور کروانے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رات گئے تک پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'ایف اے ٹی ایف کے نام پر عمران خان کو پاکستان کا ہٹلر نہیں بننے دیں گے'

قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 6 گھنٹوں تک جاری رہا جس میں اہم مسائل مثلاً موٹروے ریپ کیس، کراچی اور سندھ میں سیلابی صورتحال کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدا گری میں اضافے پر بات کی گئی۔

انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 کے مطابق تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 روز کے لیے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا سراغ لگانے کے لیے خفیہ کارروائی کرسکتا ہے جس میں جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے رابطوں اور کمپیوٹر سسٹم کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ تفتیش میں توسیع کے لیے عدالت میں تحریری درخواست بھی جمع کروائی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں عدالت اس اجازت کو مزید 60 روز کی توسیع دے سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایجنڈے پر ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز ایوان میں پیش نہ کیے جاسکے

موجودہ قانون کسی دوسرے قانون سے متصادم نہیں ہوگا اور وفاقی حکومت طریقہ کار کو مضبوط بنائے گی اور احکامات کے نفاذ کے لیے قواعد وضع کرے گی۔

بل میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز فراہم کرنا ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ اور بے عزتی کا باعث ہے، دہشت گردی کے لیے مالی معاونت ان عناصر کو فائدہ پہنچاتی ہے جو نہ صرف ملک بلکہ اس کے اتحادیوں کے داخلی اور خارجی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

بل میں کہا گیا کہ 'بل پیش کرنے کا بنیادی مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اور عدالتوں کی بااختیار مدد کے ساتھ ان لعنتوں کا خاتمہ کرنے کے قابل بنانا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق دونوں بلز سینیٹ سے بھی منظور

دوسری جانب پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

اس بل میں تجویز دی گئی کہ 'جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہوگا جس کے لیے 2 سال تک کی سزائے قید یا 5 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں'۔

بعدازاں ایوان میں موٹروے واقعے پر بات ہوئی جس پر اراکین کی جانب سے غصے کا اظہار دیکھنے میں آیا، اس موقع پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سرعام پھانسی کے واقعے کی حمایت نہیں کی بلکہ اس کے بجائے عدلیہ کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔