سپریم کورٹ دہشتگردی کے مجرموں کو معافی دینے پر اسلامی اسکالرز سے مشاورت کرے گی

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

اسلامی اسکالرز کے ناموں کا فیصلہ عدالت بعد میں کرے گی اور دو ہفتوں کے بعد یہ کیس دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فائل فوٹو:سپریم کورٹ ویب سائٹ
اسلامی اسکالرز کے ناموں کا فیصلہ عدالت بعد میں کرے گی اور دو ہفتوں کے بعد یہ کیس دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فائل فوٹو:سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ طور پر اس بات کا تعین کیا جانا ہے کہ کیا دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ قیدیوں کو معافی دینے کا استحقاق یا بنیادی حق ہے یا نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ فساد فل ارض کے حقیقی معنی کو سمجھنے کے لیے عدالت کے دوست کی حیثیت سے مذہبی ماہر قانون سے مدد حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسلامی اسکالرز کے ناموں کا فیصلہ عدالت بعد میں کرے گی اور دو ہفتوں کے بعد یہ کیس دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: جنسی ہراسانی کی گفتگو ریکارڈ کرنے پر سزا پانے والی خاتون کیلئے عام معافی

اسلامی اسکالرز کی مدد حاصل کرنے کا خیال بینچ کے سامنے اس وقت آیا جب پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاسم علی نواز چوہان نے سماعت کے دوران سورۃ مائدہ سے آیت نمبر 33 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ 'ان کی بھی یہی سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے'۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت سزا پانے والے مجرموں کے حق میں متعلقہ اعلی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی طرف سے متعدد اپیلیں دائر کی گئیں۔

جس معاملے پر فیصلہ ہونا ہے وہ یہ ہے کہ کیا انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت مجرم قرار پائے جانے والے قیدیوں کو معافی ملنی چاہیے، خاص طور پر 2001 میں اس ایکٹ کے سیکشن 21-ایف میں ترمیم کے بعد؟

سیکشن 21-ایف معافی سے متعلق ہے اور اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ سہولت کسی بچے کے علاوہ ان افراد کے لیے میسر نہیں، جنہیں اس ایکٹ کے تحت کسی بھی جرم میں سزا سنائی گئی۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال، جو بینچ کے ایک رکن بھی ہیں، نے مشاہدہ کیا کہ حقوق ایسی چیز ہے جس کا تحفظ کیا گیا ہے تاہم اصل سوال یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم مجرم کی اصلاح کے لیے کوئی نقطہ نظر اختیار نہیں کریں گے یا اس کے لیے سارے دروازے بند کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 'کلبھوشن یادیو کی کسی قسم کی کوئی سزا معاف نہیں کی گئی'

ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم علی نواز چوہان نے حکومت پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ڈاکٹر قدیر عالم کی معاونت کرتے ہوئے دلائل پیش کیے کہ 15 اکتوبر 2001 کو آرٹیکل 21-ایف میں ترمیم کے بعد اگر معافی دی جاتی ہے تو اس ایکٹ کا مقصد اور اس کی نیت ختم ہوجائے گی کیونکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہے۔

حکومت پنجاب کا مؤقف ہے کہ صدر کو استثنیٰ کا اختیار وزیر اعظم کی تجویز پر آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت دیا گیا اور اس اختیار کے تحت صدر مختلف مواقع پر مجرموں کی سزاؤں میں خصوصی معافی دیتے ہیں۔

لیکن قتل، جاسوسی، ریاست مخالف سرگرمیوں، فرقہ واریت، زنا، ڈکیتی، اغوا اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سزا پانے والے قیدیوں کے لیے اے ٹی اے کے مطابق معافی نہیں ہے۔