عدالت نے مریم نواز کے خلاف ایف بی آر کے لیوی ٹیکس نوٹس پر عملدرآمد روک دیا

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: ٹوئٹر
—فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دیئے گئے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹسز پر علمدرآمد روک دیا۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس نوٹس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی: مریم نواز کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل

جسٹس امیر بھٹی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت میں عدالت نے مریم نواز کو جاری ٹیکس نوٹسز کو معطل کردیا۔

علاوہ ازیں عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف بی آر کو جواب جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا۔

دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل کنندہ نے مقررہ وقت کے بعد اپیل فائل کی ہے اس لیے مریم نواز کی درخواست خارج کی جائے۔

جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور انہوں نے اپنی درخواست میں ایف بی آر سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔

اپیل میں مریم نواز نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے 6 لاکھ 57 ہزار روپے کے انکم سپورٹ لیوی ٹیکس کے نوٹسز بھجوائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: استعفیٰ منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا، مریم نواز

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق سارے ٹیکسز ادا کر رہی ہوں اور تمام ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود ایف بی آر نے ریکوری کے نوٹس بھجوا دیے ہیں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے درخواست میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے ریکارڈ کا درست جائزہ لیے بغیر درخواست خارج کی۔

انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ عدالت سنگل بینچ کا فیصلہ اور ایف بی آر کی جانب سے ارسال کیے گئے نوٹسز بھی کالعدم قرار دے۔

خیال رہے کہ ان دنوں مریم نواز کو 200 کنال اراضی غیرقانونی طور پر اپنے نام کرانے کے الزام کا سامنا ہے۔

اس ضمن میں گزشتہ ماہ اگست کے اوائل میں نیب نے 11 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پیش ہونے کے لیے نیب دفتر پہنچی تو اس موقع پر سخت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور کئی گھنٹوں بعد صورتحال کی کشیدگی کے پیش نظر نیب نے پیشی منسوخ کر کے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں، کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کردیا تھا۔

بعدازاں پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیش کے موقع ہنگامہ آرائی سے متعلق مقدمے میں دہشت گردی کے دفعات شامل کردیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر کارکنان اور پولیس میں تصادم

اس واقعے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ جس ریاستی، حکومتی خوف، جبر اور دہشت گردی کا میں نے مشاہدہ کیا ہے وہ میرے لیے یا مسلم لیگ (ن) کے لیے نہیں بلکہ اس جعلی اور سلیکٹڈ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔