پارلیمان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندا گیا، شہباز شریف

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر کے بارے میں مشاورت سے فیصلہ کریں گے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر کے بارے میں مشاورت سے فیصلہ کریں گے—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق سمیت دیگر بلوں کی منظور پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندا گیا۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے متحدہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا اور پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ 'ایف اے ٹی ایف سے متعلق حالیہ دنوں میں جو بل منظور کروائے گئے ہیں اس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنے پاکستانی ہونے کا بھرپور اظہار کیا'۔

مزید پڑھیں:ایف اے ٹی ایف سے متعلق تینوں بل مشترکہ اجلاس میں منظور، اپوزیشن کا احتجاج

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنی ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر ایف اے ٹی ایف کے بل کا ساتھ دیا تاکہ پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی قدغن نہ آئے۔

شہباز شریف نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر یکسوئی سے حکومت کے ساتھ کھڑے تھے تاکہ مخالفین اور پاکستان کے خارجہ معاملات میں دشمنوں کو کوئی موقع نہ ملے اور تندہی سے کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جو ترامیم کی گئیں اس میں وقف املاک بل پر کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن حکومت نے اسپیکر کو حکم دیا اور انہوں نے تمام حدوں کو پھلانگ دیا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ میں اسپیکر سے سخت احتجاج کروں گا کیونکہ انہوں نے مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا، میں پہلی مرتبہ ان کے سامنے گیا لیکن میرے ساتھ بات تک نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا یہ اسپیکر کا یہ رویہ انتہائی غیرپارلیمانی ہے اور اپوزیشن اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور باہمی فیصلے سے اسپیکر کے بارے میں فیصلہ کریں گے کیونکہ آج انہوں نے ریڈ لائن عبور کرلی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج پارلیمانی روایات کے لیے سیاہ دن تھا، اپوزیشن کی جانب سے تعاون کے باوجود اس طرح کے اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا جو لوگ کہتے تھے کہ این آر او مانگ رہے ہیں، وہ جھوٹ کہتے تھے کیونکہ اپوزیشن تو پہلے سے ہی نیب تمام جھوٹے مقدمات کا سامناکررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن گزشتہ دو ڈھائی برسوں سے حوصلے کے ساتھ جیلیں برداشت کررہی ہے لیکن ہم پاکستان کے مسائل پر بات کررہے ہیں کیونکہ مہنگائی ہوئی ہے اور لوگوں کی مشکلات میں بدترین اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایک اور بل سینیٹ میں مسترد

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے نظام کو ڈی ریل نہ کرنے کی کوشش کی اور عوامی مسائل پر بات کی لیکن اس کو جواب انہوں نے دیا ہے پوری قوم اس کی گواہ ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم بہت جلد اے پی سی میں باہمی مشاورت سے کوئی حل نکالیں گے۔

پارلیمانی تاریخ میں اسپیکر کا ایسا رویہ نہیں دیکھا گیا، بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہمارے تمام راکین اسمبلی اور سینیٹر اہم قانون سازی کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ہماری سینیئر اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ پرویز مشرف اور ضیاالحق کے دور میں بھی ایسا غیرپارلیمانی رویہ نہیں دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے اعتراضات حکومت کو سمجھانے کے لیے کیا تھا کہ جو طریقہ کار اپنارہے ہیں وہ غیر آئینی ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی مشیر قانون سازی نہیں کرسکتا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسپیکر وہ بات سننے کو تیار ہی نہیں تھے، غیرآئینی طریقے سے قانون سازی کی اور پھر ہرترمیم کے لیے غیرقانونی طریقہ کار اپنایا۔

مزید پڑھیں: انسداد دہشت گردی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے ہمیں تو بات کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اسپیکر کے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو جب چاہے بولنے سے روکے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے ہمارے اپوزیشن لیڈر کو بولنے کا موقع نہیں دیا۔

ترامیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ میں گرفتاری کے قانون کو تبدیل کردیا ہے جس کا مطلب ہے کہ صرف الزام پر پولیس کو وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوگی اور گرفتار کرلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن تو نیب اور مختلف اداروں کے ذریعے ہونے والے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن سوچیں کاروباری افراد کا کیا ہوگا اور معاشی سرگرمیوں پر کیا اثر پڑے گا۔

اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، مولانااسعد

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد محمود نے کہا کہ اسپیکر نے خود کہا کہ تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کو موقع دیا جائے گا لیکن ایک غیرمنتخب شخص اور وزیرخارجہ نے ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں اختلاف کررہا تھا یا بی این پی اختلاف کررہی تھی بولنے نہیں دیا جاتا تھا لیکن آج ان کی نشان دہی کےباوجود اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ترامیم کے لیے بلاول بھٹو کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ ان سے اختلاف کررہے تھے۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ان سے یہ بھی برداشت نہیں ہوا کہ اپوزیشن کوئی ترمیم بھی لائیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے ملک میں احتساب کے فیصلے وٹس ایپ پر ہوں گے اور ہماری جمہوریت اور قومی اسمبلی کے اندر فیصلے دباؤ میں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اجلاس میں وزیردفاع سمیت دیگر حکومتی وزرا اپوزیشن کی بینچوں پر آکر ان کی حمایت کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے، جس میں شدید مذمت کرتا ہوں۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن نیب پر سودے بازی کرناچاہتی ہے لیکن کیا ہمیں آپ کا احتساب معلوم نہیں ہے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ رات کو 2 بجے ججوں سے کیسے فیصلے کراتے ہیں اور کیسے وٹس ایپ پر انہیں کیسے ہدایات دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوم کے مفاد، قومی سلامتی اور خود مختاری پر سودے بازی کررہی ہے اور عوام کے ذریعے بلیک میل کر رہی ہے۔

قبل ازیں ایوان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے واضح اکثریت سے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 3 بلوں سمیت دیگر بلوں کو منظور کرلیا تھا جبکہ اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا تھا۔