سندھ میں جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق نیا قانون نافذ

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹوَ
—فائل فوٹوَ

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون برائے 2020 پر دستخط کردیے جس میں سائبر کرائم کے تحت مقدمات کی شق بھی شامل کی گئی ہیں۔

چیف کنزرویٹر محکمہ جنگی حیات جاوید مہر نے بتایا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کا قانون 2020 گورنر سندھ کے دستخط کے بعد صوبے بھر میں نافذ ہوگیا۔

مزید پڑھیں: بحرین کے بادشاہ کو تلور کے شکار کی اجازت

انہوں نے بتایا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر 6 ماہ قید اور جرمانہ ہوگا۔

جاوید مہر نے بتایا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون 2020 میں بلا اجازت اور لائسنس کے بغیر جنگلی حیات کے رکھنے پر 6 ماہ قید ہوسکے گی۔

چیف کنزرویٹر نے بتایا کہ جنگلی حیات سے متعلق نئے قانون پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے جبکہ بغیر لائسنس کے مارکیٹس اور دکانوں پر پرندوں کی غیرقانونی خرید و فروخت پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ بغیر لائسنس شکار کرکے سوشل میڈیا پر نمائش کرنے والوں کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کراچی کی مشہور ایمپریس مارکیٹ میں 100 سے زائد نایاب نسل کے پرندے موجود ہیں اور عوام کی توجہ کا مرکز ہیں جہاں افریقی گرے پیٹر بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پرندوں کی جنت تباہ ہورہی ہے

تاہم اکتوبر 2016 میں نایاب پرندوں اور جانورں کی نسل کے تحفظ کے حوالے سے اقوام متحدہ نے انسان کی طرح بات کرنے والے افریقی گرے پیرٹ یا طوطے کی تجارت پر پابندی لگادی تھی۔

عالمی ادارے کے اس اقدام کا مقصد مذکورہ نایاب پرندے کی نسل کو لاحق خطرات کو روکنے کی کوشش کرنا تھا۔

اگر بات کی جائے سندھ میں تلور کے شکار کی تھی تو یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ پاکستانی شہریوں کو تلور کے شکار کی اجازت نہیں ہے۔

اگست 2015 میں سپریم کورٹ نے 'تلور' کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تلور کے شکار کے حوالے سے کیس کی سماعت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لائسنس کے بغیر تلور کا شکار کرنے کی کوشش پر 7 قطری شہری گرفتار

عدالت نے قرار دیا تھا کہ عرب شہزادوں کو تلور کی شکار کی اجازت دینا غیر قانونی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2014 میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی تلور کے شکار پر پابندی عائد کی تھی جس کو محکمہ جنگلات کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ وزارت خارجہ عمومی طور پر عرب شہزادوں یا دیگر اعلیٰ عرب شخصیات کو تلور کے شکار کے پرمٹ جاری کرتی رہی ہے۔