گوگل کی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میٹ میں کارآمد فیچر کا اضافہ

16 ستمبر 2020

ای میل

— فوٹو بشکریہ گوگل
— فوٹو بشکریہ گوگل

اگر آپ ویڈیو کانفرنسنگ کالز کے لیے گوگل میٹ استعمال کرتے ہیں تو اپنے پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔

گوگل نے ایک نئے بلاگ میں اعلان کیا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے جو بہترین طریقے سے آپ کو پس منظر سے الگ کردے گا۔

اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔

شور کو فلٹر آؤٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

فیچر کس طرح کام کرتا ہے آپ نیچے انیمیٹڈ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

یہ فیچر بائی ڈیفالٹ ٹرن آف ہوتا ہے مگر اسے بہت آسانی سے ان ایبل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے تھری ڈاٹ مینیو پر کلک کریں اور وہاں بلرڈ بیک گراؤنڈ آئیکون پر کلک کردیں۔

یہ کام کانفرنس کال کے دوران یا پہلے کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔

تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ بیک گراؤنڈ کوو دھندلا کرنے سے شاید ڈیوائس سست ہوجائے تو دیگر ایپس کو صحیح طریقے سے چلانے کے لیے ٹرن آف رکھنا بہتر ہے۔

یہ فیچر کچھ صارفین کو دستیاب ہے جبکہ دیگر صارفین اسے کچھ ہفتے میں استعمال کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں گوگل کی جانب سے پریمیئم ویڈیو کانفرنسنگ سروس گوگل میٹ کو صارفین کے لیے مفت کردیا گیا تھا۔

یہ کانفرنسنگ سروس پہلے صرف جی سیوٹ کے صارفین کے لیے مخصوص اور 6 ڈالر ماہانہ پر ہی دستیاب تھی۔

میٹ کے ذریعے بیک وقت 100 افراد ایک ویڈیو کال کا حصہ بن سکتے یییں جبکہ شیڈولنگ، اسکرین شیئرنگ اور رئیل ٹائم کیپشن جیسے فیچرز بھی اس میں دستیاب ہیں۔

گوگل میٹ کے مفت ورژن کو استعمال کرنے کے لیے جی میل اکاؤنٹ لازمی درکار ہوگا جبکہ ویڈیو کالز کا دورانیہ 60 منٹ تک ہوگا مگر گوگل کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق 30 ستمبر کے بعد شروع ہوگا۔

گوگل کی جانب سے پرائیویسی کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں جن میں ہوسٹ کنٹرولز یعنی کسی کو میٹنگ میں شامل کرنا یا نہ کرنا، لوگوں کو میوٹ یا چیٹ سے نکالنا، پپیچیدہ میٹنگ کوڈز اور انکرپشن قابل ذکر ہیں۔

اس معاملے میں بھی گوگل میٹ زوم کو ہدف بنارہا ہے کیونکہ اس ویڈیو چیٹ کو پرائیویسی کے معاملے پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہوا ہے۔