’معاہدے کی خلاف ورزی‘، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کا ترک کمپنی کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2020

ای میل

مذکورہ کمپنی کا تعلق ترکی سے ہے۔۔۔۔ فائل فوٹو: ڈان
مذکورہ کمپنی کا تعلق ترکی سے ہے۔۔۔۔ فائل فوٹو: ڈان

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) نے شہر میں صفائی ستھرائی کے مسائل کا سبب بننے پر اور معاہدے کی خلاف ورزی پر دو بین الاقوامی ٹھیکیداروں میں سے ایک کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے، مذکورہ کمپنی کا تعلق ترکی سے ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹھیکیدار کمپنی نے الزامات کی تردید کی ہے اور الزام لگایا کہ کمپنی کو پچھلے سال مارچ سے ’اہم ادائیگیاں‘ نہیں کی گئیں۔

ایل ڈبلیو ایم سی نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اپنے محدود وسائل سے اضافی مشینری تعینات کرکے تقریبا 10 ہزار ٹن فضلہ اٹھانے کا بھی دعویٰ کیا۔

مزیدپڑھیں: لاہور: کچرا اٹھانے کیلئے انوکھی موٹرسائیکل ٹرالی

ایل ڈبلیو ایم سی کے منیجنگ ڈائریکٹر / سی ای او ڈاکٹر شاہ زیب حسنین نے پریس ریلیز میں کہا کہ’ٹھیکیدار کے ذریعہ معاہدے کی خلاف ورزی کے سبب شمالی لاہور کے رہائشیوں کو صفائی ستھرائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ 40 فیصد مشینری کی عدم فراہمی نے علاقوں میں صفائی ستھرائی کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد نوٹسوں کے باوجود ترک ٹھیکیدار اپنی تمام مشینری کو لانے میں ناکام رہا اور اب ایل ڈبلیو ایم سی کے پاس قانونی کارروائی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹھیکیدار (البیریک) میں شہر میں صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں سنجیدگی کا فقدان ہے اس حقیقت کے باوجود کہ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) نے پچھلے 8 برس کے دوران اسے اربوں روپے ادا کیے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تیز بارش سے شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا

ڈاکٹر شاہ زیب حسنین نے کہا کہ کمپنی نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس علاقے میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جہاں مذکورہ ترک ٹھیکیدار کو کام کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ہم شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہے ہیں لہذا ہم اگلے 48 گھنٹوں میں شمالی لاہور کے متاثرہ علاقوں کی صفائی کو یقینی بنائیں گے۔

دوسری جانب ترک ٹھیکیدار کمپنی البیارک کی ترجمان نے ایل ڈبلیو ایم سی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے معاہدہ کی شق کے تحت اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’کچھ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایل ڈبلیو ایم سی نے ہمیں خط لکھے اور ہم نے ان کا بھی جواب دیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ایل ڈبلیو ایم سی ٹھیکیدارکمپنی کو گزشتہ سال مارچ سے لے کر آج تک ’اہم / حتمی ادائیگی‘ نہیں کرسکی۔

یہ بھی پڑھیں: کچرا کم کرنے اور اسے دوبارہ استعمال کرنے کے چند مفید مشورے

ان کا کہنا تھاکہ ہم جزوی ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں کیونکہ ایل ڈبلیو ایم سی کی جانب سے ادائیگی کا ایک بہت بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ مزید یہ کہ لکھوڈیر ڈمپ سائٹ پر کچرے کو پھینکنے سے متعلق شدید مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سب کے باوجود ترک ٹھیکیدارکمپنی ایل ڈبلیو ایم سی کی توقعات پر پورا اترنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔

ایل ڈبلیو ایم سی نے ترک ٹھیکیدار کمپنی کو ٹھوس فضلہ بروقت اکٹھا کرنے اور تلف کرنے میں نااہلی پر نوٹس بھی جاری کیے۔